دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 202
202 طرح یہ میمورنڈم بھی شائع ہو چکا ہے ہر صاحب بصیرت پڑھ کر خود جائزہ لے سکتا ہے کہ اس میمورنڈم میں مسلم لیگ کے موقف کی بھر پور حمایت کی گئی تھی۔Partition of The PUunjab کی پہلی جلد کے صفحہ ۴۲۸ سے ۴۷۲ پر یہ میمورنڈم شائع ہو چکا ہے۔ہر کوئی پڑھ کر اپنی تسلی کر سکتا ہے کہ مفتی محمود صاحب کے الزامات بے بنیاد تھے۔حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ جسٹس منیر صاحب کی تحریر میں جماعت احمدیہ کے میمورنڈم پر حیرت کا اظہار بالکل نا قابل فہم ہے کیونکہ باؤنڈری کمیشن کی کارروائی کی اشاعت کے سرسری جائزہ سے ہی یہ بات سامنے آ جاتی ہے کہ اس وقت کانگرس کی طرف سے بہت سی شخصیتوں گروہوں اور تنظیموں کے میمورنڈم پیش کرائے گئے تھے تا کہ ان کا کیس مضبوط ہو اور اسی طرح مسلم لیگ کی طرف سے بھی اپنے موقف کی تائید میں بہت گروہوں، جماعتوں اور تنظیموں کے میمورنڈم پیش کرائے گئے تھے تا کہ ان کا موقف مضبوط ہو۔اب ان کی ایک طویل فہرست شائع ہو چکی ہے۔چنانچہ آل انڈیا مسلم لیگ نے جماعت احمدیہ کے علاوہ مسلم لیگ بٹالہ، پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈ ریشن ہٹی مسلم لیگ منٹگمری ، ڈسٹرکٹ مسلم لیگ لدھیانہ ، ینگ منفس مسلم ایسوسی ایشن ،امیر جماعت احمدیہ لدھیانہ، انجمن مغلیہ ہٹی اور ڈسٹرکٹ مسلم لیگ جالندھر وغیرہ کی طرف سے میمورنڈم پیش کرائے تھے جن میں مسلم لیگ کے موقف کی تائید کی گئی تھی اور دوسری طرف کانگرس کی طرف سے پنجاب ہندوسھا، سکھ اسمبلی ، گوردوارا کمیٹی ، رام داسی سکھوں ، آریہ سکھوں۔صدر گوردوا را کمیٹی مغلپورہ لاہور، ڈوگرہ ہند وسمجھا امرتسر ،سکھ زمیندار ایسوسی ایشن پنجاب، ہندو لیگ بٹالہ وغیرہ کے میمورنڈم پیش کرائے گئے تھے۔یہ حقائق صاف ظاہر کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کا میمورنڈم خود مسلم لیگ نے پیش کرایا تھا تا کہ ان کا موقف مضبوط ہو۔اس پس منظر میں یہ اعتراضات لا یعنی نظر آتے ہیں۔(The Partition of The Punjab 1947, Vol۔1, published by Sang-e-Meel, p474-477) پاکستان میں ریاست کے اندر ریاست بنانے کے منصوبے کا الزام