دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 195 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 195

195 بھجواتے تھے تو پھر آپ احمدی وکلاء سے خدمات لینے پر مصر کیوں تھے۔آپ کو تو فوراً انہیں برطرف کر کے دوسرے فرقوں سے وابستہ مسلمان وکلاء کی خدمات لینی چاہیے تھیں اور اگر احمدی وکلاء نے کام بند کر دیا تھا تو اس پر اللہ کا شکر کرنا چاہیے تھا۔دوسرے مسلمان وکلاء کی تعداد احمدی وکلاء کی نسبت کئی گنا زیادہ تھی۔اگر خدمت کی نیت ہوتی تو پھر احمدی وکلاء کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی اور اب تک تو مفتی محمود صاحب یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ جماعت احمدیہ کو برطانوی حکومت نے اپنے مقاصد کے لیے قائم کیا تھا اور شروع سے جماعت احمد یہ اسی حکومت کے لیے کام کر رہی تھی اور یہ سب کچھ کھلم کھلا ہو رہا تھا۔اگر ایسا تھا تو پھر علامہ اقبال اور دوسرے مسلمان قائدین نے اس قسم کے اہم کام کی قیادت کے لیے حضرت امام جماعت احمدیہ کا انتخاب کیوں کیا ؟ ان کی قیادت میں کام کیوں شروع کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ افسانے بعد میں گھڑے گئے تھے۔جب قربانیاں دینے کا وقت تھا اور عملی خدمت کا وقت تھا تو سب سے آگے جماعت احمدیہ کو کیا گیا۔اکھنڈ بھارت اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ جماعت احمد یہ اکھنڈ بھارت بنانے کے لیے کوشاں تھی۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی گروہ آل انڈیا مسلم لیگ کی حمایت کر کے ہندوستان کی تقسیم کی کوشش کر رہا تھا یا پھر کانگرس کے ساتھ مل کر متحدہ ہندوستان کی آزادی کے لیے کام کر رہا تھا یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔اس کا زیر بحث موضوع سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اس مرحلہ پر مفتی محمود صاحب کے بیان کردہ نکات ایک دوسرے کی تردید کر رہے تھے۔ایک طرف تو وہ یہ دعویٰ پیش کر رہے تھے کہ قادیانی اور ہندو ایک دوسرے کی ضرورت تھے اور کانگرس قادیانیوں کو مسلمانوں میں ایک ففتھ کالمنسٹ کی حیثیت سے استعمال کر رہی تھی۔دوسری طرف وہ یہ کہہ رہے تھے کہ جب پنڈت جواہر لال نہرو کانگرس کے لیڈر کی حیثیت سے انگلستان کا دورہ کر کے واپس آئے تو انہوں نے کہا کہ جب تک قادیانی ہندوستان میں سرگرم عمل ہیں ہندوستان کا آزاد ہونا مشکل ہے اور جب تک ان پر یہ حقیقت نہ کھلی ہند و قادیانیوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے۔واضح رہے کہ اپوزیشن کی طرف سے ایک قرار داد اسمبلی میں پیش کی گئی تھی اور مفتی محمود صاحب