دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 194
194 میں جلسے منعقد ہوئے۔علامہ اقبال نے لاہور کے جلسہ سے خطاب کیا۔4۔ان جلسوں پر ہندو پریس نے شدید رد عمل دکھایا۔ملاپ جیسے اخباروں نے لکھا کہ کشمیر میں ہندوراج کے لیے اور ڈوگرہ راجہ کے لیے خطرہ پیدا ہورہا ہے اور کشمیر میں مسلم راج کے قیام کی سازش ہو رہی ہے۔5 کشمیر کمیٹی نے کشمیر کے مسلمانوں کو قانونی اور مالی مدد مہیا کرنی شروع کی۔کشمیر کمیٹی کے صدر کی طرف سے احراری لیڈروں کو کمیٹی کے ساتھ شامل ہونے کا کہا گیا مگر انہوں نے انکار کر دیا۔6۔آل انڈیا کانگرس کشمیر کمیٹی کو اور اس میں احمدیوں کی شمولیت کو پسند نہیں کر رہی تھی۔انہوں نے کانگرس کے لیڈر آزاد کی وساطت سے احراریوں کو اس کمیٹی کے خلاف اکسایا۔7۔مجلس احرار نے اس بات کی مخالفت شروع کی کہ احمدی کشمیر کمیٹی میں کام کیوں کر رہے ہیں اور ان کا وفد سری نگر حالات کا جائزہ لینے کے لیے گیا اور انہیں کشمیر کے راجہ نے اپنے مہمان کی حیثیت سے اپنے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا اور یہ خبریں مشہور ہونے لگیں کہ انہوں نے یہ مہم ناکام بنانے کے لیے راجہ کو رشوت دی ہے۔احرار نے جلسوں کا آغا ز شروع کیا۔8۔احراریوں نے علامہ اقبال کو احمدیوں کے خلاف اکسانا شروع کیا اور اس کے نتیجہ میں امام جماعت احمدیہ نے اس کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔علامہ اقبال نے صدارت سنبھالی اور جلد انہوں نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ایک اور پلیٹ فارم پر کام شروع کیا گیا لیکن یہ بھی نہ پنپ سکا اور ساری مہم ختم ہوگئی۔(Iqbal and Politics of the Punjab (1926-1938), BY Dr۔Khurram Mahmood, published by National Book Foudation 2010, p 93-100) ی تھی سازش ! جب کشمیر کمیٹی کی کاوشیں اثر پیدا کرنے لگیں تو فوراً جماعت احمدیہ مخالف احرار کسی تابعدار ملازم کی طرح حاضر ہوئے اور کشمیر کمیٹی میں اختلاف پیدا کیا۔پھر اب تک یہ رونا رویا جاتا ہے کہ اصل میں قادیانی وکلاء علامہ اقبال کی بجائے اپنی قیادت کی راہنمائی زیادہ قبول کرتے تھے۔نہایت ہی لغو اعتراض ہے۔اگر آپ کا یہی خیال ہے کہ احمدی ایجنٹ تھے اور دشمنوں کو خبریں