دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 165 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 165

165 سے ہو رہا تھا۔سعودی عرب کا موجودہ شاہی خاندان اور شریف مکہ اور دوسرے عرب ممالک کے عوام اور خواص نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف جدو جہد کی تھی اور اتحادی طاقتوں کا ساتھ دیا تھا اور یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ جب بغداد پر برطانوی افواج کا قبضہ ہو گیا تو ہندوستان کے مسلمانوں کا کیا ردعمل تھا کیا وہ برطانوی حکمرانوں کے خلاف جذبات کا اظہار کر رہے تھے یا ان سے اظہار وفاداری کر رہے تھے۔اس کی بہت سی مثالیں ہو سکتی تھیں لیکن ہم ان میں سے دو مثالوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ایک مثال مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی تنظیم آل انڈیا مسلم لیگ کی ہے اور دوسری مثال ہندوستان کے علماء کی ہے۔بغداد پر قبضہ کے بعد جب آل انڈیا مسلم لیگ کا پہلا سالانہ اجلاس ہوا تو اس میں منظور ہونے والی پہلی قرار داد یہ تھی۔The All India Muslim League notes with deep satisfaction the steadfast loyalty of the Mussalmans community to the British Crown during the present crisis through which the Empire is passing, and it assures the Government that it may continue to rely on the loyal support of the Mussalmans and prays that this assurance may be conveyed to H۔M۔the King Emperor۔(The Indian Muslims, A documentary record 1900-1947, compiled by Shan Muhammad, published by Meenakshi Prakashan, Vol۔5 p 145) ترجمہ: آل انڈیا مسلم لیگ اس بحران میں مسلمانوں کی تاج برطانیہ سے مستقل وفاداری پر گہرے اطمینان کا اظہار کرتی ہے اور گورنمنٹ کو یہ یقین دلاتی ہے کہ وہ پہلے کی طرح مسلمانوں کی وفاداری اور حمایت پر انحصار کر سکتے ہیں اور یہ درخواست کرتی ہے کہ ان کے یہ جذبات شہنشاہ معظم