دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 14 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 14

14 طور پر علماء دیوبند کی خدمات پر بہت بھروسہ کر رہے تھے۔چنانچہ انہی دنوں میں انہوں نے دارالعلوم دیو بند کے مہتمم مولوی محمد احمد صاحب کو خوش ہو کر شمس العلماء“ کا خطاب عطا کیا۔انگریزوں کی اس اظہار خوشنودی پر علماء دیوبند بہت خوش ہوئے اور فیصلہ کیا کہ انگریز گورنر کے حضور پیش ہو کر شکریہ ادا کیا جائے۔جب علماء دیو بند نے وائسرائے کی اس عنایت کا شکر یہ ادا کرنے کے لیے ایڈریس پیش کیا تو اس ایڈریس میں اس امر کا بھی شکریہ ادا کیا کہ وائسرائے ہند نے پہلے بھی دارالعلوم دیوبند پر بہت سی special favours کی ہیں۔اس ایڈریس کے اختتام پر علماء دیوبند نے انگریز گورنر کو بہت سی دعاؤں سے نوازا۔یہ ایڈریس ۲۷ ستمبر ۱۹۱۵ء کو پیش کیا گیا تھا۔پانچ مولویوں میں مہتمم دارالعلوم دیو بند مولوی محمد احمد صاحب بھی شامل تھے لیکن گورنر کے پاس آنے کا مقصد صرف شکریہ ادا کرنا نہیں تھا جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ اس وقت پہلی جنگ عظیم جاری تھی۔اصل پس منظر یہ تھا کہ اس وقت پہلی جنگ عظیم کے حوالے سے ہندوستان کی انگریز حکومت کو بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑھ رہا تھا۔ایک پریشانی تو یہ تھی کہ دارالحکومت دہلی میں کچھ گروہ انگریز حکومت کے خلاف جذبات کو ہوا دے رہے تھے اور دوسری پریشانی یہ تھی کہ ہندوستان کے بہت سے مسلمان حج پر حجاز جاتے تھے۔اس وقت یہ علاقہ جہاں پر مقدس مقامات واقع تھے ترکی کی سلطنت عثمانیہ کے تحت تھے اور اس صورت حال میں یہ خطرہ رہتا تھا کہ سلطنت عثمانیہ کے عہدیداران کو اپنے ساتھ ملا کر سلطنت برطانیہ کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔یہ محض خیال نہیں تھا انگریز حکومت کو ایسے شواہد ملے تھے کہ سلطنت عثمانیہ کے وزیر جنگ انور بیگ اور ہندوستان کے کچھ مسلمان مل کر انگریز حکومت کے خلاف اعلیٰ سطح کی سازش کر رہے ہیں۔ظاہر ہے کہ اس صورت حال میں انگریز حکومت کو ایسے قابل اعتماد ساتھیوں کی ضرورت تھی جو کہ انہیں اس قسم کی سازشوں کے متعلق مخبری کر کے اطلاع دیتے رہیں۔ان سب حالات کی مخبری کے لیے دارالعلوم دیو بند کے علماء نے سلطنت برطانیہ کی بہت اہم خدمات سرنجام دی تھیں اور انگریز حکومت ان کی اطلاعات پر بہت اعتماد بھی کرتی تھی۔خاص طور پر دارالعلوم دیو بند کے مہتمم اور ان کے بانی کے بیٹے مولوی محمد احمد صاحب تو سلطنت برطانیہ کے اتنے وفادار تھے کہ اگر انہیں یہ بھی شک ہو جاتا کہ ان کا کوئی شاگرد یا خودان کے مدرسہ