دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 13 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 13

13 افغان افواج کو شکست دی۔اس کے عوض انگریزوں نے انہیں خلعت سے نوازا اور MBE کا اعزاز عطا کیا۔وہ سیاست میں آئے اور پنجاب کے وزیر اعظم بنے۔بعد میں سلطنت برطانیہ نے انہیں KNIGHT COMMANDER OF THE ORDER OF THE BRITISH EMPIRE کا اعزاز عطا کیا۔(سیاست کے فرعون ، مصنفہ وکیل انجم ، مطبوعہ فیروز سنز ۱۹۹۲ ء ص ۳۹۷) یہ تھا سردار شوکت حیات صاحب کے خاندان کا ماضی۔یہ خاندان شروع سے انگریزوں کی حکومت کی خدمت سرنجام دیتا رہا اور جب سلطنت برطانیہ کا مقابلہ کسی مسلمان حکومت سے ہوا اس وقت یہ خاندان بڑھ چڑھ کر سلطنت برطانیہ کی خدمت کرتا رہا۔اسی طرح اس قرارداد کے ایک محرک احمد رضا قصوری صاحب بھی تھے جن کے دادا شیر باز خان قصوری صاحب کو انگریز حکومت نے خان بہادر کا خطاب دیا تھا۔ظاہر ہے کہ یہ خطاب حکومت نے اپنے خلاف بغاوت کرنے پر تو نہیں دیا تھا بلکہ خدمات کے عوض دیا گیا تھا۔علماء دیو بند سلطنت برطانیہ کے مخبر کا کردار ادا کرتے رہے یہ تو بر صغیر کے ان پرانے سیاسی خاندانوں کے کچھ حالات تھے جو کہ اس ماضی کے باوجوداب جماعت احمدیہ پر یہ الزام لگا رہے تھے کہ نعوذ باللہ جماعت احمدیہ کو انگریز سامراج نے اپنے مقاصد کے لیے کھڑا کیا تھا۔اب ہم مختلف مسلک کے علماء کا جائزہ لیتے ہیں۔اس قرار داد کو پیش کرنے میں دیوبندی مسلک کے علماء نے اہم کردار ادا کیا تھا۔خود مفتی محمود صاحب جنہوں نے مخالفین کا محضر نامہ قومی اسمبلی میں پڑھا تھا ، دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ دیو بند کے علماء نے انگریز حکومت کے خلاف کیا نمایاں خدمات سرنجام دی تھیں۔یہ تو سب جانتے ہیں کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت برطانیہ اس وقت کی سب سے بڑی مسلمان سلطنت یعنی سلطنت عثمانیہ کے ساتھ حالت جنگ میں تھی۔یہ ایک قدرتی بات تھی کہ اس وقت ہندوستان کے بہت سے مسلمانوں کی ہمدردیاں سلطنت عثمانیہ کے ساتھ تھیں لیکن اس وقت بھی انگریز حکمران خاص