دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 15
15 کا کوئی استاد کسی طرح بھی سلطنت برطانیہ کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے تو وہ ضرور انگریز حکومت کو اس کی شکایت کرتے تھے بلکہ اس پر قابو پانے کے لیے اہم مشورے بھی دیتے تھے۔پہلے تو یہ حقائق اتنی تفصیلات کے ساتھ لوگوں کے علم میں نہیں تھے لیکن اب تو وہ خفیہ کا غذات سامنے آگئے ہیں جن سے ثابت ہو گیا ہے کہ خود یوپی کے گورنر Meston James صاحب نے حکومت کو یہ رپورٹ تھی کہ پہلے مہتم دیو بند مولوی محمد احمد صاحب نے سہارنپور کے مجسٹریٹ کو یہ مخبری کی تھی کہ ان کے مدرسہ کے ایک استاد محمود الحسن صاحب بمبئی سے حج کے لیے روانہ ہوئے ہیں اور ان کا منصوبہ یہ ہے کہ وہاں پر مدینہ کے شیخ کی وساطت سے سلطنت عثمانیہ کے وزیر جنگ انور بیگ سے ملیں گے اور یہ منصوبہ بنائیں گے کہ کس طرح ہندوستان کے سرحدی علاقوں میں بغاوت کے حالات پیدا کیے جائیں اور جب وہ گورنر کے پاس وفد لے کر شکریہ ادا کرنے آئے تو انہوں نے اپنی باقی رفقاء کو باہر بھجوا کر گورنر Meston کو تخلیہ میں یہی مخبری کی۔جیسا کہ ہم بعد میں ذکر کریں گے یہ تو ایک بہت بڑی سازش تھی لیکن اس کے ساتھ مہتم دیو بند نے انگریز گورنر کو یہ بھی مجری کی کہ دہلی میں مسلمانوں کا ایک گروہ ان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے دہلی کے مشہور کانگرسی لیڈر ڈاکٹر انصاری صاحب نے محمود الحسن صاحب کو کتنی رقم دی ہے؟ اور یہ بھی بتایا کہ دہلی میں ان کے ایک شاگردمولوی عبید اللہ سندھی صاحب نے ایک تنظیم نظارت المعارف نام کی قائم کی ہے اور مولوی محمد احمد صاحب مہتمم دیو بند نے انگریز گورنر کو مزید بتایا کہ دہلی کی فتح پوری مسجد حکومت کے خلاف سازشوں کا مرکز بنی ہوئی ہے اور گورنر کو یہ ہمدردانہ مشورہ دیا کہ مولوی عبید اللہ سندھی صاحب کو دہلی سے نکال کر سندھ بھجوا دیا جائے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مہتمم دارالعلوم دیو بند مولوی محمد احمد صاحب جو خفیہ اطلاعات انگریز حکومت کو مہیا کرتے تھے وہ جمع کیسے کرتے تھے؟ اس کے لیے دو طریقے استعمال کیے جاتے تھے۔ایک تو یہ کہ یہ صاحب اپنی بعض مرید خواتین سے جن کا تعلق اہم خاندانوں سے تھا یہ معلومات حاصل کرتے تھے کہ ان کے گھروں میں کیا باتیں ہو رہی ہیں۔ان میں سے ایک خاتون مشہور سیاسی لیڈر ڈاکٹر انصاری صاحب کی بیگم صاحبہ بھی تھیں اور دوسرا طریقہ یہ استعمال کرتے تھے کہ اپنے آدمی