دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 144 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 144

144 نہیں فرمایا کہ یہ عبارت حضرت مجددالف ثانی کے کس مکتوب میں پائی جاتی ہے اور نہ ہی اس عبارت سے کسی طرح یہ تاثر مل سکتا ہے کہ یہ معین عبارت لفظ بلفظ درج کی جا رہی ہے اور مفتی محمود صاحب نے حضرت مجددالف ثانی کے جس مکتوب کا حوالہ درج کیا ہے اس میں ”نبی“ کے لفظ سے قبل کی چند سطریں اس طرح من و عن پائی بھی نہیں جاتیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر میں درج ہیں کہ کوئی یہ تاثر دے سکے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر میں اسی مکتوب کی معین عبارت درج کی جارہی تھی اور یہاں پر نعوذ باللہ محدث کا لفظ تبدیل کر کے نبی کر دیا گیا ہے تا کہ لوگوں کو دھوکہ دیا جا سکے۔تمام پڑھنے والوں سے گذارش ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کی ابتدا پر ایک نظر ڈالیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرما رہے ہیں کہ حضرت مجددالف ثانی نے اپنے مکتوبات میں یہ تحریر فرمایا ہے۔صاف ظاہر ہے کہ یہ لکھا جا رہا ہے کہ مندرجہ ذیل مضامین حضرت مجددالف ثانی کے ایک سے زیادہ خطوط میں بیان ہوئے ہیں جس کا خلاصہ معنوی طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔البتہ یہ سوال ضرور اُٹھایا جا سکتا ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے کیا یہ دو مضامین ان مکتوبات میں پائے جاتے ہیں کہ نہیں 1۔آنحضرت ﷺ کی امت میں چنیدہ لوگ شرف مکالمہ ومخاطبہ حاصل کرتے رہتے ہیں۔2 کیا چنیدہ لوگوں میں سے آنحضرت ﷺ کی امت میں کمالات نبوت کا حاصل کرنا ممکن ہے اور کیا اللہ تعالیٰ ان چنیدہ اشخاص کو جن کو کمالات نبوت عطا ہوتے ہیں اپنے وحی والہام سے غیب کا علم عطا کرتا ہے کہ نہیں؟ جہاں تک پہلے نکتہ کا تعلق ہے تو یہ مضمون حضرت مجددالف ثانی کے ایک سے زیادہ مکتوب میں موجود ہے اور اس میں سے ایک کا حوالہ خود مفتی محمود صاحب نے بھی دیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں شرف مکالمہ ومخاطبہ پانے والے لوگ ہمیشہ پیدا ہوتے رہے ہیں۔(کشف المعارف مرتبه عنایت عارف ، الفیصل ناشران فروری ۲۰۰۶ صفحه ۳۹۱) دوسرا نکتہ کہ اس امت میں چنیدہ افراد ولایت کے مرتبہ سے بڑھ کر نبوت کے کمالات اور مرتبہ حاصل کر سکتے ہیں کہ نہیں اس کے بارے میں حضرت مجددالف ثانی تحریر فرماتے ہیں