دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 143
143 تھے کہ جماعت احمدیہ نے اپنے محضر نامہ میں اور اس کے ضمیمہ میں بہت سےحوالے درج کئے ہیں جن سے یہ ثابت ہو جاتا تھا کہ یہ سب بزرگان ، اولیاء اور سلف صالحین اس بات کے قائل تھے کہ آنحضرت ﷺ کی اتباع میں امتی نبی آ سکتا ہے۔اگر اس بنیاد پر جماعت احمدیہ پر کفر کا فتویٰ لگایا جاتا ہے تو یہی فتویٰ ان بزرگان پر بھی صادق آئے گا۔اس صورت حال کے ازالے کے لئے مفتی محمود صاحب نے یہ کوششیں شروع کیں کہ یہ ثابت کیا جائے کہ جماعت احمدیہ نے غلط حوالے پیش کئے ہیں۔انہوں نے اس ضمن میں پہلی مثال یہ پیش کی : اس سلسلے میں سب سے پہلے مرزا غلام احمد صاحب کی یہ ڈھٹائی اور دیدہ دلیری ملاحظہ فرمائیے کہ انہوں نے اپنی نبوت ثابت کرنے کے لئے مجددالف ثانی کی ایک عبارت نقل کی ہے اور اس میں ایک لفظ خوداپنی طرف سے بڑھا دیا ہے۔لکھتے ہیں : یہ بات ہے کہ جیسا مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگر چہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبی اس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلا تا ہے۔“ 66 (حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۹۰ مطبوعہ ۱۹۰۷ء) حالانکہ حضرت مجد دصاحب کی جس عبارت کا حوالہ مرزا صاحب نے دیا ہے وہ یہ ہے: واذا كثر هذا القسم من الكلام مع واحد منهم يسمى محدثاً اور جب اللہ کی طرف سے اس قسم کا کلام کسی کے ساتھ بکثرت ہونے لگے تو 66 اسے محدث کہا جاتا ہے۔(مکتوبات جلد ۲ صفحہ ۹۹) ( کارروائی صفحہ ۲۰۱۱) مفتی صاحب نے جو کچھ کہا تھا وہ من وعن درج کر دیا گیا ہے اور ہر کوئی پڑھ کر خود جائزہ لے سکتا ہے۔پہلی یہ بات قابل توجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی معین مکتوب کا حوالہ درج