دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 145 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 145

145 تو خاتم المرسلين عليه و آله و على جميع الانبياء والرسل الصلوات و تسلیمات کی بعثت کے بعد بطریق وراثت و تبعیت آپ کے پیروکاروں کو کمالات نبوت کا حصول آپ کی خاتمیت کے منافی نہیں علیه و آله الصلوة والسلام اور پھر آپ تحریر فرماتے ہیں اور دوسرا راستہ وہ ہے ان کمالات ولایت کے حصول کے بغیر ہی کمالات نبوت تک وصول میسر آجاتا ہے اور یہ دوسرا راستہ فراخ اور کشادہ ہے اور وصول کے زیادہ نزدیک ہے۔“ ( مکتوبات حضرت مجددالف ثانی مکتوب نمبر ۳۰۱) پھر آپ ایک مکتوب میں قرآن کریم کی متشابہات آیات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے علماء راسخین کو عطا فرمایا جاتا ہے لیکن خاص غیب کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسولوں کو عطا فرمایا جاتا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ علماء راسخین کو بھی اس تاویل کا علم عطا فرماتا ہے۔جس طرح کہ اس علم غیب پر جو اسی کے ساتھ مخصوص ہے۔اپنے خاص رسولوں کو اطلاع بخشتا ہے۔“ (مکتوب نمبر ۳۱۰) مندرجہ بالا حوالوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مجددالف ثانی کے مکتوبات کا حوالہ دے کر جو نکات بیان فرمائے تھے وہ مختلف مکتوبات میں موجود ہیں۔مفتی محمود صاحب از خود صرف ایک مکتوب کی نشاندہی کر کے ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عبارت میں تحریف کی گئی ہے حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو اس مکتوب کا حوالہ دیا ہی نہیں تھا بلکہ یہ تحریر فرمایا تھا کہ یہ نکات حضرت مجددالف ثانی کے ” مکتوبات میں بیان ہوئے ہیں اور مفتی محمود صاحب یہ تو جانتے ہی ہوں گے کہ لفظ ” مکتوبات“ مکتوب کی جمع ہے ، واحد نہیں ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ حضرت مجددالف ثانی کا واضح ارشاد ہے کہ آنحضرت کی کامل اتباع کرنے والوں کو کمالات نبوت حاصل ہونا ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔یہ ایک جملہ ہی