دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 142 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 142

142 لحاظ سے نبیوں ،صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین میں شامل کیے جائیں گے یعنی اس امت کا نبی ، نبی کے ساتھ۔صدیق ، صدیق کے ساتھ۔شہید، شہید کے ساتھ۔صالح صالح کے ساتھ علمی دنیا کے اتنے بڑے امام کی یہ تفسیر جماعت احمدیہ کے مخالفین کے مفروضوں کو مکمل طور پر رد کر رہی تھی۔علاوہ ازیں مفتی صاحب یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے جیسا کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے اس موضوع پر صرف یہی آیت کریمہ پیش کی گئی تھی جس کی تشریح کے لئے مفتی محمود صاحب کوششیں کر رہے تھے۔حقیقت یہ تھی کہ آیت خاتم النبین ﷺ کے حقیقی معنی کے بارے میں جماعت احمدیہ کے موقف کی تائید میں دیگر آیات قرآنی پیش کی گئی تھیں اور یہ دلائل سپیشل کمیٹی کے سامنے پڑھے گئے تھے۔نہ سوال و جواب کے دوران ان کے بارے میں کوئی تنقید کی گئی اور نہ ہی مفتی محمود صاحب اپنے طولانی تقریر میں ان کا کوئی جواب دے سکے۔مثلاً محضر نامی میں یہ آیت درج ہے۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے : يبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمُ ايَتِيُّ فَمَنِ اتَّقَى وَ أَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔(الاعراف : ٣٦) ”اے ابنائے آدم ! اگر تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں جو تم پر میری آیات پڑھتے ہوں تو جو بھی تقوی اختیار کرے اور اصلاح کرے تو ان لوگوں پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور وہ ننگین نہیں ہوں گے۔“ اگر ایسا ہی تھا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کی غلامی میں اور آپ کے لائے ہوئے پیغام کے لئے کوئی امتی نبی بھی نہیں آسکتا تھا تو پھر اللہ تعالیٰ یقینا مسلمانوں کو مخاطب کر کے یہ نہ فرما تا کہ اگر تمہارے پاس ایسے رسول آئیں جو کہ میری آیات پڑھتے ہوں لیکن مفتی محمود صاحب اس دلیل کا کوئی جواب نہ دے سکے۔سلف صالحین کے حوالوں کی وضاحت کی کوشش مفتی محمود صاحب نے کہنے کو تو اپنی تقریر کے آغاز میں کہ دیا تھا کہ کہ مسئلہ ختم نبوت پر ہمیشہ تمام امت مسلمه اسی موقف کی قائل رہی ہے جو کہ وہ بیان کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وہ جانتے