دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 141
141 کبھی وہ اجتماع رتبہ اور شرف کے لحاظ سے ہوتا ہے جیسے ھما معاً في العلو وہ دونوں بلند رتبہ ہونے میں برابر ہیں۔“ اس حوالے سے لغوی اعتبار سے مفتی محمود صاحب کا اعتراض مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے کہ اس کا مطلب صرف یہ ہی ہو سکتا ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرنے والوں کو نبیوں کی معیت نصیب ہو گی لیکن لغوی پہلو کو نظر انداز بھی کر دیا جائے اور اگر مفتی صاحب کا فلسفہ تسلیم کر لیا جائے کہ اس امت میں نبی نہیں ہوں گے لیکن انہیں نبیوں کی رفاقت نصیب ہوگی تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا اس امت میں صالح ، صدیق اور شہداء بھی نہیں ہوں گے انہیں صرف صالحین کی اور صد یقوں کی اور شہداء کی رفاقت نصیب ہوگی کیونکہ اس آیت میں مع کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اس سوچ کی رو سے نعوذ باللہ امت محمدیہ کو تمام روحانی انعامات سے محروم تسلیم کرنا پڑے گا۔اس کے علاوہ محضر نامہ میں سورة آل عمران ،سورۃ النساء اور سورۃ الحجر کی آیات کا حوالہ دے کر ثابت کیا گیا تھا کہ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر جب مع“ کا لفظ استعمال ہوا ہے اس سے مراد کسی گروہ کی رفاقت یا معیت کے نہیں بلکہ اس گروہ میں شامل ہونے کے ہوتے ہیں۔اور حیرت ہے کہ مفتی محمود صاحب عالم کہلانے کے باوجود اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ یہ لفظ تواتر کے ساتھ ان معانی میں بھی استعمال ہوا ہے۔مفتی صاحب کے وسوسوں کا جواب محضر نامہ میں دیا جا چکا تھا لیکن مفتی محمود صاحب جماعت احمدیہ کی طرف سے اُٹھائے گئے نکات کا جواب دینے سے نہ صرف مسلسل گریز کر رہے تھے بلکہ ان دلائل اور حوالوں سے پہلو تہی کر رہے تھے جو جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں پیش کیے گئے تھے۔وہ اس پہلو کا ذکر بھی نہیں کر سکے کہ جیسا کہ جماعت احمدیہ کی محضر نامہ میں حوالہ درج کیا گیا تھا کہ امام راغب نے تفسیر بحر محیط میں اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ قال الراغب ممن انعم الله عليهم من الفرق الاربع في المنزلة والثواب النبي بالنبي والصديق بالصديق والشهيد بالشهيد والصالح بالصالح ( تفسیر بحر محیط تفسیر سورۃ النساء آیت ۶۹) یعنی اس آیت کا مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت کرنے والے مقام اور مرتبہ کے