دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 12 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 12

12 (Abbott) کے پاس آ گئے اور اس جنگ کے اختتام تک ان کے پاس ہی رہے۔اس کے بعد ۱۸۵۷ء کے ہنگامے کا آغاز ہوا تو اس وقت نکلسن (Nicholson) پشاور کے ڈپٹی کمشنر تھے۔انہیں اس خاندان کی وفاداری پر اعتماد تھا۔انہوں نے محمد حیات خان صاحب کو ہدایات دی کہ وہ آفریدیوں پر مشتمل ایک دستہ تیار کریں تا کہ انگریز حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔چنانچہ سردار شوکت حیات صاحب کے دادا نے انگریز حکمرانوں کی خدمت کے لیے یہ دستہ تیار کیا۔اور اس کے بعد محمد حیات خان صاحب نکلسن صاحب کے AIDE DE CAMP کے فرائض ادا کرتے رہے۔جس وقت جنرل نکلسن صاحب نے ہوتی مردان اور تریمو گھاٹ پر باغی افواج کو خوفناک سزائیں دیں تو اس وقت محمد حیات خان صاحب ان کے ہمراہ تھے۔جب جنرل نکلسن زخمی ہوئے تو اس وقت سردار شوکت حیات صاحب کے دادا اس جنرل کی موت تک اس کی دن رات خدمت کرتے رہے۔فتح کے بعد انگریزوں نے ان کی خدمات کی قدر کرتے ہوئے ان کو ملنے والی پنشن کو ۲۵۰ روپے سالانہ سے بڑھا کر ۳۶۰ روپیہ سالانہ کر دیا اور خلعت سے نوازا۔جنگ کے بعد انگریز فاتحین نے محمد حیات خان صاحب کو پشاور میں تھانے دار مقرر کیا اور پھر تلہ گنگ کا تحصیلدار بنا دیا۔پھر ان کو مزید ترقیات دی گئیں۔ان کو COMPANION OF THE ORDER OF THE STAR OF INDIAN کے اعزاز سے نوازا گیا۔1899 میں انہیں نواب کا خطاب عطا کیا گیا۔(THE PUNJAB CHIEFS (REDVISED EDITION, BY W۔L۔CONRAN, 276&277 H۔D۔CRAIK P) سردار شوکت حیات صاحب کے والد سر سکندر حیات صاحب بھی اپنے والد کی وفات کے بعد اپنے والد کی طرح انگریز حکومت کی قابل قدر خدمات سرنجام دیتے رہے۔جب پہلی جنگ عظیم کا وقت آیا اور سلطنت برطانیہ ترکی کی سلطنت عثمانیہ سے برسر پیکار ہوئی تو انہوں نے ایک پنجابی بٹالین میں بھرتی آفیسر کے طور پر کام کر کے سلطنت برطانیہ کی خدمت کی۔۱۹۱۹ء میں جب انگریزوں اور افغانستان کی تیسری جنگ ہوئی تو انہوں نے انگریز حکومت کی طرف سے جنگ میں شرکت کی اور