دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 11 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 11

11 دیں کہ بلا تلوار چلائے انہیں صاحبوں کی حکمت کی وجہ سے یہ علاقے ہاتھ آئے۔“ یادگار در بارتاجپوشی 1911، مولفه منشی دین محمد صاحب، مطبوعہ یادگار پریس لاہورص495) تو یه سردار شیر باز مزاری صاحب کے بزرگوں کی حکمت عملی کا کمال تھا کہ انگریزوں کو جنگ بھی نہیں لڑنی پڑی اور ان کا علاقہ برطانوی حکومت کے زیر نگین بھی آ گیا۔مزاری صاحب کے خاندان کی خدمات ایسی نہیں تھیں جنہیں انگریز مورخین نظر انداز کرتے۔چنانچہ مشہور کتاب THE PUNJAB CHIEFS میں لکھا ہے کہ سردار شیر باز مزاری صاحب کے پڑدادا دوست علی خان صاحب کو کچھ غلط عادتیں لاحق ہو گئی تھیں جن کی وجہ سے قبیلہ کا سارا انتظام ان کے چھوٹے بھائی امام بخش خان صاحب کو کرنا پڑتا تھا اور ۱۸۵۷ء میں جب برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت ہوئی تو اس موقع پر انگریز حکمرانوں نے امام بخش خان مزاری صاحب کو رسالدار کے عہدے پر فائز کیا اور انہوں اس جنگ کے دوران انگریز حکومتوں کی قابل تعریف خدمات سرنجام دیں۔پھر انہیں ”سر“ کا خطاب بھی دیا گیا۔اور ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے کو۔C۔I۔E بنایا گیا اور ان کے خاندان کے متعدد افراد کو سرکاری عہدے بھی دیئے گئے۔اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ امام بخش مزاری صاحب نے اس علاقے کے لوگوں کو برٹش گورنمنٹ کا وفادار بنانے کے لیے دل و جان سے کام کیا۔(THE PUNJAB CHIEFS(REDVISED EDITION BY W۔L۔CONRAN, (H۔D۔CRAIK P 338&339 اس قرارداد کے ایک اور محرک پاکستانی سیاست کی ایک نمایاں شخصیت سردار شوکت حیات صاحب بھی تھے۔ان کے خاندان کا عروج بھی انگریز حکومت کی عنایات کا مرہون منت ہے۔ان کے پڑدادا کرم خان صاحب ۱۸۴۸ء سے انگریز حکمرانوں کی عسکری خدمات سرنجام دے رہے تھے۔انہوں نے اس زمانے میں انگریز حکمرانوں کی مدد کے لیے پیادہ اور سوار فوج تیار کی۔اس کی پاداش میں ظالم سکھوں نے ان کے گھر کو نذر آتش کر دیا۔کرم خان صاحب سکھوں کی یورش سے تو بچ گئے لیکن ان کے بھائی نے انہیں قتل کر دیا۔کرم خان صاحب کے قتل کے بعد ان کے بیٹے اور سردار شوکت حیات صاحب کے دادا، محمد حیات خان صاحب چند فوجی لے کر انگریز افسر ایبٹ