دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 136
136 کہ احمدیوں نے کل دو احادیث اپنے موقف کی تائید میں پیش کی ہیں اور میں یہ ثابت کروں گا یہ دونوں احادیث نبوی ضعیف ہیں اور ان میں سقم ہے اور پھر انہوں نے کہا کہ ان میں سے ایک تو درمنثور سے ہے جو کہ حدیث کی کوئی معتبر کتاب نہیں ہے اور دوسری حدیث ابن ماجہ کی ہے۔ابن ماجہ کی حدیث کے متعلق مفتی محمود صاحب نے یہ دعویٰ پیش کیا کہ یہ ضعیف ہے اور قابل اعتبار نہیں ہے۔افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ مفتی محمود صاحب ایک بار پھر جھوٹ کا سہارا لے رہے تھے۔یہ غلط ہے کہ اس موضوع پر جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں صرف دو احادیث درج کی گئی تھیں۔یہ احادیث محضر نامہ کے صفحہ نمبر ۱۰۸ سے ۱۱۰ پر درج کی گئی ہیں۔ان احادیث میں صحیح مسلم کی وہ معتبر حدیث بھی ہے جس میں رسول اللہ آنے والے موعود مسیح کو چار مرتبہ نبی کے نام سے یاد فرمایا ہے۔اس طرح مفتی محمود صاحب کا یہ دعویٰ بالکل غلط ثابت ہو جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ نے اپنے موقف کے حق میں صرف دو ضعیف احادیث پیش کی ہیں۔ایک حدیث ابن ماجہ کی اور دوسری در منثور کی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ محضر نامہ میں صحیح مسلم کی حدیث بھی درج کی گئی تھی اور سوال و جواب کے دوران حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس حدیث کا حوالہ بھی دیا تھا۔اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے آنے والے موعود مسیح کو چار مرتبہ نبی اللہ کے نام سے یاد فرمایا تھا اور اس کی تصدیق سنن ابو داؤد کی ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے۔اس میں رسول اللہ ﷺ نے آنے والے موعود مسیح کے بارے میں فرمایا تھا لیس بینی و بینه یعنی عیسی علیه السلام نبی و انه نازل (سنن ابوداؤ د باب خروج الدجال) یعنی میرے اور ان کے یعنی عیسی علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں اور وہ یقین نازل ہوں گے۔اگر لانبی بعدی کا یہی مطلب تھا کہ اب مطلقاً کوئی نبی نہیں آسکتا تو پھر نیا پرانا کوئی نبی نہیں آ سکتا کیونکہ اس قول میں نئے یا پرانے نبی کی کوئی تخصیص نہیں ہے لیکن مندرجہ بالا حدیث اس بات کو واضح کر رہی ہے کہ اصل میں یہ مقدر تھا کہ رسول اللہ ﷺ اور موعود مسیح کے درمیان کوئی نبی مبعوث نہ ہو لیکن آنے والے موعود نے بہر حال مقام نبوت پر سرفراز ہونا تھا۔