دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 135
135 ہے کہ شیعہ کا فر ہیں اور اس کے بعد بھی ضمیمہ نمبر ۴ میں با ہمی فتاویٰ کفر کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔اس کے بعد کے ابواب میں بھی جماعت احمدیہ کی طرف سے واضح ثبوت مہیا کئے گئے تھے کہ تاریخ میں مختلف فرقے دوسرے فرقوں کو کا فرقرار دیتے رہے ہیں اگر اس کی بنیاد پر قانون سازی کی گئی تو پھر پاکستان میں قانون کی رو سے کوئی مسلمان نظر نہیں آئے گا۔یہ ضمیمہ انٹر نیٹ پر موجود ہے ہر کوئی پڑھ کر حقیقت جان سکتا ہے لیکن مفتی محمود صاحب کے پاس ان ٹھوس ثبوتوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔انہوں نے جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کردہ مواد کا کوئی جواب نہیں دیا۔حقیقت یہ تھی کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے اس جیسے صرف پانچ نہیں بلکہ بیسیوں فتاویٰ پیش کیے گئے تھے جن کو اگر مجموعی طور پر تسلیم کر لیا جا تا تو دنیا میں کو ئی مسلمان ڈھونڈ نا مشکل ہو جاتا۔احادیث کا ذکر : مفتی محمود صاحب ایک بار پھر جماعت احمدیہ کے محضر نامہ کا جواب دینے سے گریز کرتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ مفتی محمود صاحب نے پہلے یہ دعویٰ پیش کیا کہ ختم نبوت کے مسئلہ پر ان کے موقف کی تائید میں بیسیوں آیات پیش کی جاسکتی ہیں لیکن وہ یہ آیات پیش کرنے سے قاصر رہے۔اب اس کے ازالہ کے لیے انہوں نے یہ طریق اختیار کیا کہ ان حادیث کو نشانہ بنایا جائے جو کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے اپنے موقف کی تائید میں پیش کی گئی تھیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس موضوع پر بھی مفتی محمود صاحب اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہے تھے۔انہوں نے کہا : ”مرزائی صاحبان نے لاکھوں احادیث کے ذخیرے میں سے دو ضعیف وستقیم روایتیں نکال کر اور انہیں من مانا مفہوم پہنا کر ان سے اپنی خود ساختہ نبوت کے لئے سہارا لینے کی کوشش کی ہے اس لئے یہاں ان پر بھی ایک نظر ڈال لینا مناسب ہوگا۔“ کارروائی صفحہ ۱۹۹۷، ۱۹۹۸ ) مندرجہ بالا حوالے کا مطلب بالکل واضح ہے۔مفتی محمود صاحب یہ واویلہ کر رہے تھے