دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 137 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 137

137 اس مرحلہ پر مفتی صاحب کی ذہنی بوکھلاہٹ اس درجہ پر پہنچ چکی تھی کہ انہوں نے یہ دلائل دینے شروع کر دئے کہ علم حدیث کے اعتبار سے 'در منثور بالکل نا قابل اعتبار کتاب ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں صفحہ ۱۰۸ سے لے کر صفحہ اتک جہاں متعلقہ احادیث درج کی گئی ہیں وہاں پر درمنثور کی کوئی روایت درج نہیں ہے۔اس لیے مفتی محمود صاحب کی یہ بحث بالکل غیر متعلقہ تھی۔اس موقع پر حضرت عائشہ کی جس روایت پر مفتی صاحب اتنا غصہ نکال رہے تھے وہ محضر نامہ میں تکملہ مجمع الہار کے حوالے سے درج کی گئی تھی اور وہ حدیث یہ ہے قولوا انه خاتم الانبياء و لا تقولو لا نبي بعده یعنی حضور ﷺ کو خاتم النبین تو کہو لیکن یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔چونکہ یہ حدیث واضح طور پر جماعت احمدیہ کے موقف کی تصدیق کر رہی ہے اس لیے مفتی محمود صاحب اسے ہر قیمت پر غلط ثابت کرنا چاہتے تھے لیکن محبت اور گھبراہٹ میں غلط کتاب کا نام لے کر بحث شروع کر بیٹھے۔اس لیے مناسب تو یہی تھا کہ مفتی محمود صاحب متعلقہ حوالے پر کوئی بحث اُٹھاتے لیکن وہ اس سے احتراز ہی کرتے رہے۔جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں پیش کردہ احادیث کا جواب دینے کے لئے اب انہوں نے ایک اور طریقہ اختیار کیا کہ صحاح میں درج احادیث نبوی عملے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔محضر نامہ میں ابن ماجہ کی یہ حدیث پیش کی گئی تھی کہ جب رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔مفتی محمود صاحب نے اس کے جواب میں یہ دلیل پیش کی کہ ” موضاعات کبیر میں امام نووی کی یہ رائے لکھی ہے کہ یہ حدیث باطل ہے۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مفتی محمود صاحب نامکمل حوالہ پیش کر رہے تھے۔اس کتاب میں ان الفاظ کے بعد یہ لکھا ہے کہ ” جب نبی کریم ﷺ نے یہ خبر بیان فرمائی اور نقلاً یہ خبر آپ سے ثبوت کو پہنچ گئی تو اس میں کوئی کلام ہی باقی نہ رہا۔“ ( موضوعات کبیر اردو تر جمه ناشر نعمانی کتب خانه نومبر ۲۰۰۸ صفحه ۲۶۲) اور اس سے اگلے صفحہ پر ساری بحث کا نتیجہ نکالتے ہوئے اور اس حدیث کو صحیح قرار دے کر