دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 128
128 آنحضور ﷺ نے نہایت جامع اور مانع الفاظ میں عالم اسلامی کے اتحاد کی بین الاقوامی بنیاد رکھ دی ہے اور ہر مسلمان حکومت کا فرض ہے کہ اس بنیاد کو اپنے آئین میں نہایت واضح حیثیت سے تسلیم کرے ورنہ امت مسلمہ کا شیرازہ ہمیشہ بکھرا رہے گا اور فتنوں کا دروازہ کبھی بند نہیں ہو سکے گا۔(محضر نامہ صفحہ ۱۹،۱۸) جماعت احمدیہ کا موقف بہت واضح ہے کہ مسلمان کی تعریف وہی قابل قبول ہے جو کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہے اور یقیناً رسول اللہ ﷺ کی بیان کردہ تعریف ہی جامع تعریف ہے اور سب مسلمان اسی تعریف پر متفق ہو سکتے ہیں جو کہ آپ ﷺ نے بیان فرمائی تھی۔اس موقف کے جواب میں مفتی محمود صاحب نے یہ جراءت کی اور یہاں تک کہہ دیا کہ رسول الله عل اللہ کی بیان فرمودہ تعریف جامع تعریف نہیں۔انہوں نے کہا: ” اس سلسلے میں بعض ان احادیث سے استدلال کی کوشش کی جاتی ہے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کی علامتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جو ہماری طرح نماز پڑھے، ہمارے قبلے کی طرف رخ کرے اور ہمارا ذبح کیا ہوا جانور کھائے وہ مسلمان ہے“ لیکن جس شخص کو بھی بات سمجھنے کا سلیقہ ہو وہ حدیث کے اسلوب وانداز سے یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہاں مسلمان کی کوئی قانونی اور جامع و مانع تعریف نہیں کی جارہی بلکہ مسلمانوں کی وہ معاشرتی علامتیں بیان کی جارہی ہیں جن کے ذریعہ مسلم معاشرہ دوسرے مذاہب اور معاشروں سے ممتاز ہوتا ہے اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ جس شخص کی ظاہری علامتیں اس کے مسلمان ہونے کی گواہی دیتی ہوں اس پر خواہ مخواہ بدگمانی کرنا یا بلا وجہ اس کی عیب جوئی کرنا درست نہیں۔( کارروائی صفحہ ۱۹۹۲) یہاں پر مفتی محمود صاحب نے ان تمام احادیث کے ذکر سے گریز کیا ہے جن کا حوالہ جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں دیا گیا تھا جن کی بنیاد پر مسلمان کی قانونی تعریف کرنا ضروری تھا اور انہوں نے ان میں سے صرف ایک حدیث کا حوالہ دیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ جماعت احمدیہ کا محضر نامہ پیشل