دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 129
129 کمیٹی میں پڑھا بھی گیا تھا اور تحریری طور پر بھی سب ممبران کو دیا گیا تھا اس لئے یہ بات یقینی ہے کہ وہ اس بات سے آگاہ تھے کہ جماعت احمدیہ نے یہ موقف بیان کیا تھا کہ مسلمان کی جامع تعریف وہی یہ جو کہ رسول اللہ اللہ نے بیان فرمائی ہے۔اس کے باوجود انہوں نے موقف بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی معتبر ترین احادیث میں جو کہ صحیح مسلم اور صحیح بخاری اور دیگر معتبر کتب احادیث میں درج ہیں بیان کردہ تعریف جامع نہیں ہے اور رسول اللہ ﷺ کے جوامع الکلم سے استہزاء کی بھی کوشش کی۔یہ گستاخی نہیں تو اور کیا ہے؟ اپنی بات میں جواز پیدا کرنے کے لئے مفتی محمود صاحب نے ایک اور حدیث پیش کی۔در حقیقت اس حدیث میں مسلمان کی تعریف نہیں کی بلکہ اس کی ظاہری علامتیں بیان کی گئی ہیں۔مسلمان کی پوری تعریف در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں بیان کی گئی ہے : امرت ان اقاتل الناس حتى يشهدوا ان لا اله الا الله و يومنوا بي بما جنت به رواه مسلم عن ابی ہریرۃ صفحہ ۳۷ جلد۱) مجھے جو حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور مجھ پر ایمان لائیں اور ہر اس بات پر جو میں لے کر آیا ہوں۔( کارروائی ۱۹۹۳) یہاں مفتی محمود صاحب نے اس بات کی وضاحت پیش نہیں کی کہ ان الفاظ کی وضاحت کون کرے گا کہ بما جئت بہ سے کیا مراد ہے؟ ظاہر ہے اس کا حق بھی رسول اللہ ﷺ کو ہے اور جیسا کہ پہلے حدیث کا حوالہ پیش کیا جا چکا ہے کہ رسول اللہ علیہ فیصلہ فرما چکے ہیں کہ اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں نیز یہ کہ تم نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور اگر راستہ کی توفیق ہو تو بیت اللہ کا حج کرو اور رسول اللہ علی نے ارشاد فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ۔اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان احادیث کا مقام یہ ہے کہ ان میں بیان کیا گیا ہے کہ اس بابت سوال