دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 127
127 اظہار کیا کہ صرف ملک کے امیر یا اس کے مقرر کردہ لوگوں کا حق ہے کہ وہ عوام کو وعظ کریں۔(Traitors of Islam an analysis of Qadiani issue by Allama Muhammad Iqbal, compiled by Agha Shorish Kashmiri, 1973 p22,23) مولوی صاحبان علامہ اقبال کی اس تحریر کا ذکر کبھی نہیں کرتے کیونکہ اس سے ان کی مولویت کی صف لپٹ جاتی ہے۔اس لئے انہیں مجبوراً صرف جزوی حوالے پیش کرنے پڑتے ہیں۔کلمہ گو کی تکفیر پر اصرار اس مرحلہ پر مولوی مفتی محمود صاحب نے ایک اور موضوع شروع کیا اور ان کے طویل دلائل کا خلاصہ یہ تھا کہ انہیں یا دیگر مولوی صاحبان یا کسی اسمبلی کو یہ اختیار ضرور ہونا چاہئے کہ وہ کسی کلمہ گو کی تکفیر کر سکیں۔اس سلسلہ میں انہوں نے جماعت احمدیہ کے پیش کردہ موقف کو ”مرزائی مغالطے“ قرار دیا۔یہ ایک بنیادی اہمیت کا موضوع ہے۔مفتی محمود صاحب کے دلائل کے تجزیہ سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آخر اس ضمن میں جماعت احمدیہ نے کیا موقف پیش کیا تھا اور کس بنیاد پر پیش کیا تھا ؟ ہم جماعت احمدیہ کے محضر نامہ کا متعلقہ حصہ من و عن پیش کر دیتے ہیں اس محضر نامہ میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث پیش کی گئیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ہے اس کے رسول ہیں نیز یہ کہ تم نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور اگر راستہ کی توفیق ہو تو بیت اللہ کا حج کرو اور رسول اللہ علی نے ارشاد فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ۔اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔پھر صحیح بخاری کی یہ حدیث درج کی گئی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے وہ نماز ادا کی جو ہم کرتے ہیں۔اس قبلہ کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ مسلمان ہے جس کے لئے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے۔پس تم اللہ کے دئے ہوئے ذمہ میں اس کے ساتھ دغا بازی نہ کرو۔یہ احادیث مبارکہ کو درج کر کے جماعت احمدیہ کے محضر نامہ پر ان کی روشنی میں یہ موقف بیان کیا گیا تھا کہ ہمارے مقدس آقا ﷺ کا یہ احسان عظیم ہے کہ اس تعریف کے ذریعہ سے