دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 113 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 113

113 جماعتوں سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے مسلم کی مذکورہ بالا تعریفیں عدالت میں پیش کی تھیں۔گویا ۱۹۵۳ء میں مسلمان کی تعریف اور تھی اور ۱۹۸۵ء میں اور ہوگئی۔اس کے بعد مفتی صاحب نے ۱۹۷۴ء میں رابطہ عالم اسلامی کی ایک سب کمیٹی میں جماعت احمدیہ کے خلاف منظور کی جانے والی قرارداد کا حوالہ دیا۔ہم اس قرارداد کا گزشتہ کتاب میں تفصیلی تجزیہ پیش کر چکے ہیں اس لیے اس مرحلہ پر ان حقائق کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے ان عدالتی فیصلوں کا ذکر شروع کیا جن میں بقول ان کے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔اگر چہ مذہبی دنیا میں یہ حقیقت کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ کتنی دنیاوی عدالتوں نے ایک جماعت کے خلاف فیصلے دیئے یا کتنی دنیاوی حکومتوں اور اسمبلیوں نے ان کے بارے میں کیا فتوے دیئے؟ تمام انبیاء اور ان کے پیروکاروں کو ابتدا میں اور صدیوں بعد بھی عوام اور دنیاوی اداروں نے گردن زدنی اور گمراہ ہی قرار دیا تھا لیکن اس مرحلہ پر بھی مفتی محمود صاحب کو جھوٹ کی بیساکھیوں کے سہارے کی ضرورت پڑ رہی تھی۔وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ احمدیوں کو برصغیر سے باہر بھی ہمیشہ غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔غالباً وہ اس طرح اسمبلی کے اس عجیب فیصلہ کا جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے کیونکہ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ تھا کہ ایک سیاسی اسمبلی یہ فیصلہ کرنے بیٹھی تھی کہ ایک گروہ کے مذہب کا کیا نام ہونا چاہیے۔انہوں نے بڑے فخر سے اعلان کیا کہ وہ ماریشس کی سپریم کورٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے مقدمہ کا حوالہ دے رہے ہیں۔اس طرح ڈرامائی انداز میں انہوں نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا پھر انہوں نے جماعت احمدیہ پر مقدمہ کرنے والوں کا موقف ان الفاظ میں بیان کیا: مسجد روز ہل کے مقدمہ کو تاریخ ماریشس کا سب سے بڑا مقدمہ کہا جاتا ہے کیوں کہ پورے دو سال تک سپریم کورٹ نے بیانات لئے ، شہادتیں سنیں اور پہلی مرتبہ یہ فیصلہ دیا کہ دو مسلمان الگ امت ہیں اور قادیانی الگ