دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 114
114 پھر انہوں نے جماعت احمدیہ پر مقدمہ کرنے والوں کا موقف ان الفاظ میں بیان کیا : روزبل کی مسجد جہاں مسلمانوں کے حنفی (سنی ) فرقہ کے لوگ نماز پڑھتے تھے یہ مسجد انہوں نے تعمیر کروائی تھی اور مسلسل قابض چلے آرہے تھے۔اس پر قادیانیوں نے قبضہ کر لیا ہے جن کا تعلق امت اسلامیہ سے نہیں ہے۔قادیانی ہم مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتے ، ہمارے پیچھے ان کی نماز نہیں ہوتی۔ایسی صورت میں ان کو مسجد سے باہر نکالا جائے۔( کارروائی صفحه ۱۹۸۲ ۱۹۸۳) مفتی محمود صاحب اور ان کے ساتھیوں کے موقف کا بجز اس بات ہی سے ظاہر ہے کہ وہ اب صریحاً خلاف واقعہ باتیں ممبران اسمبلی کے سامنے پیش کر رہے تھے۔اصل حقائق یہ ہیں : (1) ماریشس کے احمدیوں پر مقدمہ کرنے والوں نے مقدمہ اس بنیاد پر کیا ہی نہیں تھا کہ احمدی غیر مسلم ہیں، اس لیے انہیں روز بل کی مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا جائے بلکہ مدعاعلیہ نے جو حنفی عقیدہ کے تھے اپنی درخواست میں اقرار کیا تھا کہ نہ صرف احمدی مسلمان ہیں بلکہ یہ بھی لکھا تھا کہ احمدی سنیوں کا ایک فرقہ ہے۔ان کی درخواست کا مندرجہ ذیل حصہ اس بات کو واضح کر دیتا ہے۔وہ عدالت کو اپنی درخواست میں لکھتے ہیں۔Defendants are the followers of a new sect of Sunnis which was founded by Mirza Ghulam Ahmad of Kadian a village in the Punjab about thirty five or 36 years ago۔۔(The Mauritius Reports page 17, 1920 Nov۔19 Mamode Issackjee& Ors۔V۔A۔I۔Atcia & Ors, Rose Hill Mosque Case) یعنی مدعا علیہ سنیوں کے ایک نئے فرقہ کے پیروکار ہیں جس کو قادیان مرزا غلام احمد نے ۳۵ یا ۳۶ سال قبل شروع کیا تھا۔مخالفین نے تو اپنی درخواست میں اس بات کا اقرار کیا تھا کہ احمدی مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں۔تفصیلات سے قطع نظر ان کا موقف تو صرف یہ تھا کہ یہ مسجد ۱۸۶۳ء میں بنی تھی اور حنفی عقائد یا ان سے