دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 95 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 95

95 مقدس مقامات کی توہین کا الزام چونکہ مفتی محمود صاحب کے پاس کسی پہلو سے بھی ٹھوس دلائل موجود نہیں تھے ، اس لیے وہ اس بات پر مجبور تھے کہ ایک الزام کی تائید میں کوئی ٹھوس دلیل نہ پیش کر سکتے تو جلد ہی دوسرے الزام کی طرف متوجہ ہو جاتے۔دلائل کی کمی کو الزامات کی کثرت سے پورا کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔اس مرحلہ پر انہوں نے یہ الزام لگانے کی کوشش شروع کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مقدس مقامات کی بھی توہین کی ہے اور اس کی تائید میں انہوں نے کچھ حوالے پیش کیے۔اس بارے میں ایک بار پھر چند اصولی امور پیش خدمت ہیں۔جب خاص طور پر اس قسم کی کارروائی میں کوئی حوالہ پیش کیا جارہا ہو تو جو حوالہ پیش کر رہا ہو یہ تمام تر اس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ صحیح طور پر حوالہ پیش کرے۔اگر جس کتاب کے جس صفحہ کا حوالہ پیش کیا جا رہا ہو وہاں پر وہ عبارت نہ موجود ہو تو اس کا تمام الزام حوالہ پیش کرنے والے پر آئے گا اور اس کے لگائے گئے الزام کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی اور بعد میں یہ بودا عذر قابل قبول نہیں ہوگا کہ یہ عبارت کسی اور کتاب یا تحریر میں موجود تھی یا اس معنی کی عبارت کسی اور کتاب میں موجود ہے۔اس قسم کے عذر مشت بعد از جنگ کے مترادف ہیں۔اس اصول کو بیان کرنے کے بعد ہم ان حوالوں کی طرف آتے ہیں جو کہ اس الزام کے ساتھ مفتی محمود صاحب نے پیش کیے تھے۔مفتی محمود صاحب نے کہا: مرزا بشیر الدین محمود لکھتے ہیں: ” اس زمانے میں خدا تعالیٰ نے قادیان کو تمام دنیا کی بستیوں کی ام قرار دیا ہے۔اس لئے اب وہی بستی پورے طور پر روحانی زندگی پائے گی جو اس کی چھاتیوں سے دودھ پیئے گی۔(حقیقۃ الرویا صفحہ ۴۵) اس عبارت میں کون سی قابل اعتراض بات ہے۔اللہ تعالیٰ کے مامور جس بستی میں موجود ہوں دنیا ان بستیوں سے روحانی فیض حاصل کرتی ہے۔اس عبارت میں کسی پہلو سے کسی مقدس مقام کی کوئی تو ہین نہیں کی گئی۔اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے یہ حوالہ پڑھا: حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار