دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 96 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 96

96 یہاں نہیں آتے ، مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔آخر ماؤں کا دودھ سوکھ جایا کرتا ہے۔کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔“ (حقیقۃ الرویا صفحه ۴۶،۴۵۔مطبوعہ قادیان ۱۳۳۶ھ ) اس عبارت میں بھی صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ روحانی مراکز سے تعلق رکھنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے مامورین اور ان کے جانشین جہاں پر موجود ہوں وہاں بار بار آ کر روحانی فیضان حاصل کرنا چاہیے اور اگر اس میں کوتاہی کی جائے تو دنیا اس روحانی فیضان سے محروم ہو جاتی ہے۔اس عبارت پر بھی عقلاً کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اور اس مقام پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی یہ مضمون بیان فرما رہے ہیں کہ امام وقت سے ذاتی تعلق رکھنا چاہیے اور جلسہ سالانہ کے علاوہ بھی نو جوانوں کو بار بار قادیان آنا چاہیے تا کہ ان کی صحیح راہنمائی کی جاسکے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات پر اعتراض مفتی محمود صاحب نے اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات پر اعتراضات پیش کرنے کی کوشش شروع کی۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اب بھی وہ صرف کارروائی کے لیے اعتراضات کی گنتی پوری کر رہے تھے۔اب وہ یہ بھی بیان کرنے سے قاصر تھے کہ آخر وہ کیا اعتراض پیش کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کا یہ حوالہ پڑھا جس میں ایک رؤیا بیان کی گئی ہے اور اس پر ممبران کی طرف سے جو تمسخر کرنے کی بھونڈی کوشش کی گئی وہ درج کی جاتی ہے: (۵) ایک دفعہ ۵/ مارچ ۱۹۰۵ء کے مہینے میں بوقت آمدنی لنگر خانہ کے مصارف میں بہت وقت ہوئی کیونکہ کثرت سے مہمانوں کی آمد تھی اور اس کے مقابل پر روپیہ کی آمدنی کم اس لئے دعا کی گئی ۵/ مارچ ۱۹۰۵ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جوفرشتہ معلوم ہوتا تھا میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔میں نے اس کا نام پوچھا۔اس نے کہا : نام کچھ نہیں۔میں نے کہا : آخر کچھ تو نام ہوگا ؟ اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۳۲)