دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 40 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 40

40 میں جماعت کے وفد سے سوالات کرتے ہوئے خفت اُٹھائی۔اب ایک بار پھر اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی تھی جبکہ وہاں پر جماعت کا وفد موجود نہیں تھا جو ان کی غلطیوں کی نشاندہی کر سکے۔مفتی محمود صاحب نے یہ جھوٹا الزام تو لگا دیا کہ حضرت مسیح موعود کا دعوی صاحب شریعت نبی ہونے کا تھا لیکن اس کے حق میں دلیل کہاں سے لاتے ؟ اس مرحلہ پر دلیل پیش بھی کی تو کیا کی۔انہوں نے حضرت مسیح موعود کی یہ تحریر پڑھی: پھر ہمارے نبی علیہ کے وقت میں بچوں اور بڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لیے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“ (روحانی خزائن جلد۷ اصفحه ۴۴۳ حاشیه ) اور یہ حوالہ پڑھنے کے بعد مفتی محمود صاحب نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا اور بانی سلسلہ احمدیہ کی یہ تحریر اس بات کا ثبوت ہے کہ احمدی بانی سلسلہ احمدیہ کو شرعی نبی سمجھتے ہیں اور پھر کہا: اس طرح شریعت محمدیہ میں جہاں خمس فئی ، جزیہ اور غنائم کے تمام احکام جو حدیث اور فقہ کی کتابوں میں سینکڑوں کتابوں میں پھیلے ہوئے ہیں ان سب میں مرزا صاحب کے مذکورہ بالا قول کے مطابق تبدیلی کے قائل ہیں اس کے بعد تشریعی نبوت میں کون سی کسر باقی رہ جاتی ہے۔“ ( کارروائی صفحه ۱۸۹۴) مفتی محمود صاحب اس بات کو بالکل فراموش کر گئے کہ خود آنحضرت ﷺ نے آنے والے مسیح کا ایک اہم کام یضع الحرب بیان فرمایا ہے یعنی آنے والا مسیح دینی لڑائیوں کا خاتمہ کر دے گا ( صحیح بخاری نا شرمطبع مجتبائی دہلی جلد اول جز ۱۳۰ صفحه ۴۹۰)۔تو اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام دینی لڑائیوں کو موقوف نہ کرتے تو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی پوری کس طرح ہوتی ؟ حقیقت یہ کہ ازل سے یہی تقدیر تھی کہ آنحضرت ﷺ کی ہر پیشگوئی روز روشن کی طرح پوری ہو۔اسی لیے حضرت مسیح موعود نے دین کے نام پر قتال کے متعلق اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق یہ اعلان فرمایا کہ اب چونکہ مسلمانوں پر