دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 34
34 کا ذکر کرنے سے بھی خائف تھے۔مفتی محمود صاحب نے صرف پہلے کی طرح ایک نامکمل حوالہ پڑھنے پر ہی اکتفا کی۔اس مکمل حوالہ سے صاف طور پر ظاہر کہ یہ کسی نئی شریعت لانے کا بیان ہو ہی نہیں رہا بلکہ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق تجدید دین کا بیان ہورہا ہے۔قرآنی شریعت کے احکامات کے بیان کا ذکر ہو رہا ہے اور ان حضرات کے نزدیک یہ کس طرح قابل اعتراض ہو گیا۔اب تک تو ان کے علماء یہ اعلان کرتے رہے تھے کہ مسیح موعود پر قرآنی احکامات پر مشتمل وحی اترے گی۔جیسا کہ ہم پہلے حوالہ درج کر چکے ہیں کہ نورالحسن صاحب اپنی کتاب ”اقتراب الساعۃ میں تحریر کرتے ہیں: سبکی نے اپنی تصنیف میں صراحت کی ہے اس بات کی کہ عیسی علیہ السلام ہمارے ہی نبی کی شریعت کا حکم دیں گے قرآن و حدیث کی رو سے اس سے یہ امر راج سمجھا جاتا ہے وہ سنت کو جناب نبوت سے بطریق مشافہہ کے بغیر کسی واسطہ کے یا بطریق وحی و 66 الہام حاصل کریں گے۔“ ( اقتراب الساعة مصنفہ نواب صدیق حسن خان مطبع مفید عام الکائنہ گره ۱۳۰۱ھ صفه ۱۶۲) اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ صدیوں پہلے کے علماء بھی اور اس دور کے علماء بھی یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ مسیح موعود پر آنحضرت ﷺ کی شریعت کے احکامات بذریعہ وحی والہام نازل ہوں گے اور وہ ان کا بیان کرے گا۔کیا ان علماء کے نزدیک مسیح موعود نے نئی شریعت کو لے کر آنا تھا؟ ہر گز نہیں۔اس سے مراد صرف یہ تھی کہ مسیح موعود اپنی وحی کے نتیجہ میں آنحضرت ﷺ کی شریعت کا بیان کرے گا۔جب یہی بات حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ نے تحریر فرمائی تو اس پر انہیں اعتراض کا کیا حق ہے؟ بعض انبیاء سے فضیلت کا مسئلہ مفتی محمود صاحب ممبران اسمبلی کے سامنے ہر قیمت پر یہ خلاف واقعہ دعویٰ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود نے نئی شریعت لانے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے لیے ان کے پاس کوئی