دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 33 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 33

33 کے ذریعہ سے یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو، جھوٹی گواہی نہ دو، زنا نہ کرو، خون نہ کرو اور ظاہر ہے ایسا بیان کرنا بیان شریعت ہے جو مسیح موعود کا بھی کام ہے۔“ (روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۴۳۶) یہ امر قابل ذکر ہے کہ اربعین کا یہی حوالہ پیش کر کے اٹارنی جنرل صاحب نے یہ دلیل پیش کرنے کی کوشش کی تھی کہ نعوذ باللہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے نئی شریعت کا دعویٰ کیا تھا اور اگست کی کارروائی کے دوران حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے ان کی دلیل کو بالکل بودا ثابت کر دیا تھا اور فرمایا تھا کہ اسی حوالے میں اربعین نمبر کی اشاعت اول کے صفحہ ۶ کے حاشیہ میں حضرت بانی سلسلہ احمد یہ علیہ السلام نے یہ واضح لکھا ہے کہ ان کی وحی میں یہ اوامر و نہی شرعی احکام کی تجدید ہے (صفحہ 329 330 )۔ظاہر ہے کہ یہ لفظ ” تجدید ہی نئی شریعت کے الزام کو مکمل طور پر غلط ثابت کر رہا ہے۔اس کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے حضرت بانی جماعت احمدیہ کی تصنیف ازالہ اوہام کا یہ حوالہ بھی پڑھا تھا۔ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شعشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغیر کر سکتا ہوا گر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔۔۔(روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۷۰) اس حوالے کے بعد اس الزام کی تردید مکمل طور پر ہو جاتی تھی۔اٹارنی جنرل صاحب اس سے اس قدر بوکھلا گئے کہ انہوں اپنی دلیل میں وزن پیدا کرنے کے لیے الفضل ۲۶ جنوری ۱۹۱۵ء کا حوالہ پیش کیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حوالہ بھی جعلی تھا۔(کارروائی صفحہ ۳۳۰) یہاں پر قدرتاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مفتی محمود صاحب حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی دی گئی دلیل کا کوئی جواب دے سکے۔اس کا جواب یقناً نفی میں ہے۔مفتی محمود صاحب تو اس دلیل