دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 24 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 24

24 نے قرآن کریم کی آیات کریمہ کے حوالے سے جماعت احمدیہ کے دلائل کا کچھ بھی رد پیش فرمایا۔کوئی بھی قومی اسمبلی کی شائع کردہ کا رروائی پڑھ کر دیکھ سکتا ہے کہ مفتی محمود صاحب اس حوالے سے جماعت احمدیہ کے پیش کردہ دلائل کا کوئی رد نہیں پیش کر سکے۔کیا آنحضرت ﷺ کے بعداب ہرقسم کی وحی کے دروزے بند ہیں؟ 2۔یہ دعویٰ پیش کرنے کے ساتھ ہی مفتی محمود صاحب نے ایک اور عجیب دعوی پیش کیا۔ہم دعویٰ ایک بار پھر ان کے ہی الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔مفتی محمود صاحب نے کہا: وو اور نہ آپ ( یعنی آنحضرت ﷺ کے بعد۔ناقل ) کے بعد کسی پر وحی آ سکتی ہے اور نہ ایسا الہام جو دین میں حجت ہو۔اسلام کا یہی عقیدہ ختم نبوت“ کے نام سے معروف ہے اور سرکارِ دو عالم ﷺ کے وقت سے لے کر آج تک پوری امت مسلمہ کسی ادنی اختلاف کے بغیر اس عقیدہ کو جزوایمان قرار دیتی آئی ہے۔“ الله اس مرحلہ پر مفتی محمود صاحب صریحاً غلط بیانی سے کام لے کر مطلوبہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔جماعت احمدیہ کے وفد سے سوالات کے دوران بھی یہ مسئلہ ایک اور رنگ میں اٹھا تھا اور حضرت امام جماعت احمدیہ نے قرآن کریم کی آیت سے اس کا جواب دیا تھا۔جیسا کہ ہم پہلی کتاب میں ذکر کر چکے ہیں کہ ۸/ اگست کی کارروائی کے دوران بیٹی بختیار صاحب نے ”وحی“ کے بارے میں یہ نظریہ پیش کرنے کی کوشش کی تھی کہ وحی تو صرف انبیاء کو ہی ہوسکتی ہے۔اس پر حضرت امام جماعت احمدیہ نے دو آیات پڑھیں تھیں کہ قرآن کریم کے مطابق وہی تو شہد کی مکھی کو بھی ہوتی ہے۔اور اسلام سے قبل بنی اسرائیل کی عورتوں کے متعلق بھی قرآن کریم بیان فرماتا ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی تھی۔(النحل : ۶۹، القصص:۸) اس پر اٹارنی جنرل صاحب لا جواب ہو گئے تھے۔(ملاحظہ کیجیے کا رروائی صفحہ ۵۲۱،۵۲۰) اب چونکہ جماعت کا وفد موجود نہیں تھا جو ان حضرات کی غلطیوں کی نشاندہی کر سکے۔اس لیے گزشتہ کوشش کی ناکامی کے بعد اب مفتی صاحب ایک اور انوکھا نظریہ پیش کر رہے تھے کہ