دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 19
19 اس قرار داد پر دستخط کرنے کے لیے کہا تو انہوں نے ”بزدلانہ موقف کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پر دستخط کرنے میں لیل ولعت سے کام لیا اور جب دستخط کیے تو وہ بھی بادل نخواستہ کیے۔تحریک تحفظ ختم نبوت سیدنا صدیق اکبر نا علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی ترتیب و تحقیق محمد احمد ترازی ناشرافق پبلیکیشنز ۲۰۰۹ صفحه ۵۰۹،۵۰۸) مولوی مفتی محمود صاحب نے اپنی تقریر کا آغاز اس ایک آیت کریمہ کے اس حصہ سے کیا۔وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ كذبا او قال اوحى الى ولم يوح اليه شيء (الانعام: ۹۴) اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو گا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا کہے کہ 66 مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس پر کوئی وحی نہ آئی ہو۔۔یقیناً یہ ارشاد خداوندی برحق ہے کہ اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوسکتا ہے جو یہ دعوی کرے کہ مجھ سے اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے حالانکہ اللہ نے اس سے کلام نہ کیا ہو لیکن انہی الفاظ سے شروع ہونے والی تنبیہ قرآن کریم میں اور مقامات پر بھی بیان ہوئی ہے۔مثلاً سورۃ انعام میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِايْتِ اللَّهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ ايْتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِقُونَ۔(الانعام: ۱۵۸) پس اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے منہ پھیر لے۔ہم ان لوگوں کو جو ہمارے نشانوں سے روگردانی کرتے ہیں ایک سخت عذاب کی صورت میں ) جزا دیں گے بسبب اس کے جو وہ اعراض کیا کرتے تھے۔“ پھر اللہ تعالیٰ سورۃ اعراف میں فرماتا ہے: فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِايْته۔(الاعراف: ۳۸) پس اُس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ گھڑے یا اس کے نشانات کو جھٹلائے“ ان آیات کریمہ سے واضح ہے کہ اس شخص کے انجام سے ڈرایا گیا ہے جو اللہ تعالی پر جھوٹ