دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 20 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 20

20 بولے اور صاحب الہام یا وحی ہونے کا دعویٰ کرے اور ایسے شخص کے بد انجام سے بھی ڈرایا گیا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ نشانات کی تکذیب کرے یا ان سے اعراض کرے۔پس یہ خوف کا مقام ہے کہ کسی نشان کی تکذیب کرنے سے پہلے خوب اچھی طرح سوچ سمجھ لینا چاہئے۔اگر یہ نشان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو تو اس کا انکار کرنے والا خدا کے عذاب کو دعوت دیتا ہے۔قرآن کریم گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے اللہ تعالیٰ کے سچے رسول کا انکار کیا اور اس کی تکذیب کی اور اس کی مخالفت سے باز نہ آئے تو وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بنے۔اللہ تعالیٰ نے قوم نوح، عاد، نمود، قوم لوط اور قوم فرعون کے قصص عبرت کے لیے بیان کیے ہیں۔دوسری طرف جب جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہوئے تو وہ کبھی کامیابی نہ حاصل کر سکے۔ان کے سدباب کو اللہ تعالیٰ ہی کافی تھا۔آنحضرت ﷺ کے دور میں مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی بڑے کروفر سے اُٹھے اور ایک وقت میں لوگوں کی بڑی تعداد بھی ان کے ساتھ مل گئی لیکن یہ جمیعت ان کے کسی کام نہ آ سکی اور ان کا سلسلہ برباد ہو گیا۔خودحضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے عہد میں انگلستان میں پکٹ (PIGOTT) نے مسیح ہونے کا دعوی کیا اور اس کی تو اتنی شدید مخالفت بھی نہیں ہوئی تھی جس کا سامنا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو کرنا پڑا تھا اور بہت سے دولت مند اس کے ہمدرد بھی بنے لیکن ابتدائی دعوئی کے بعد وہ اپنی حویلی سے باہر آ کر اپنا دعوی پیش کرنے سے بھی قاصر رہا اور اس کے بعد پبلک میں اپنا دعویٰ بھی دہرا نہ سکا۔اس کا فرقہ اپنی موت آپ ہی مر گیا۔اسی طرح امریکہ می جان الیگزینڈر ڈوئی (John Alexander Dowie) نے بڑے جاہ وجلال سے ایلیا ہونے کا دعویٰ دیا۔کثیر دولت اس کے پاس جمع ہوگئی۔اس نے اپنا شہر آباد کر لیا لیکن پھر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی مباہلہ کی دعا کا شکار ہو گیا۔اس کے پیروکار اس کےخلاف ہو گئے اور وہ فالج کا شکار ہو گیا اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی زندگی میں ہی بڑی حسرت سے دنیا سے رخصت ہو گیا۔آج نہ پکٹ کا پیغام زندہ ہے اور نہ ڈوئی کی جماعت موجود ہے۔ان کو ختم کرنے کے لیے خدا ہی کافی تھا لیکن تمام تر مخالفت کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۱۹۷۴ء سے پہلے بھی جماعت احمد یہ ترقی کر رہی تھی اور اس کے بعد اس سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے۔