دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 18 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 18

18 اور انہیں مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچاتے تھے۔اور اس وفاداری کے بدلے میں انگریز حکومت بھی انہیں ہر طرح نوازتی رہی تھی اور بریلوی حضرات آزادی کی ہر تحریک سے کنارہ کش رہے بلکہ بریلوی مسلک کے بانی احمد رضا خان صاحب نے تو بڑے زور سے فتویٰ دیا تھا کہ اپنے مذہبی مدرسوں کے لیے انگریز حکومت سے مالی مدد لے لینی چاہیے۔اس کے علاوہ اس کتاب میں انگریز مصنف Seperatism Among Indian CHCCCK (C) Francis Robinson۔Muslims کا حوالہ بھی درج کیا گیا ہے کہ خود انگریز متفقین اس بات کو بہت واضح طور پر لکھتے رہے ہیں کہ بریلوی مسلک سے وابستہ افراد ہمارے مکمل طور پر وفا دار ہیں۔( فرقہ بریلویت پاک و ہند کا تحقیقی جائزہ مصنفہ مولوی الیاس گھمن ناشر مکتبہ اہل سنۃ والجماعۃ صفحہ 567 تا656) خلاصہ کلام یہ ہے کہ ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی کی اس پیشل کمیٹی میں کئی ممبران اور گروہ جماعت احمدیہ پر یہ لغوالزام لگا رہے تھے کہ جماعت احمدیہ کو برطانوی حکمرانوں نے اپنے مقاصد کے لیے کھڑا کیا تھا، حقیقت یہ تھی کہ ان کے خاندانوں نے انگریز حکمرانوں کی بھر پور خدمات کی تھیں اور تاریخی طور پر ان خاندانوں کا عروج انگریز حکمرانوں کی مہربانیوں کا مرہون منت تھا اور جو مذہبی گروہ اس وقت جماعت احمدیہ پر یہ الزام لگا رہے تھے وہ خود انگریز حکومت کے لیے اہم مخبر اور جاسوس کی خدمات ادا کرتے رہے تھے اور اس کے بدلہ میں انگریز حکومت انہیں مختلف طریقوں سے نوازتی رہی تھی۔مفتی محمود صاحب کی تقریر کے ابتدائی نکات بہر حال ابتدائی گفتگو کے بعد مولوی مفتی محمود صاحب کی تقریر شروع ہوئی۔یہ تقریر دراصل مخالفین جماعت کا تیار کردہ محضر نامہ تھا جو کہ مفتی محمود صاحب نے سپیشل کمیٹی کے روبرو پڑھا تھا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ۱۹۷۴ء کے دوران مفتی محمود صاحب کے کردار کے متعلق خود جماعت احمد یہ کے مخالفین نے بھی بہت کچھ لکھا ہے۔چنانچہ جماعت احمدیہ کے جو مخالفین شاہ احمد نورانی صاحب کے گروپ سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے اپنی کتب میں یہ دعویٰ پیش کیا ہے کہ جو قرار داد اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں پیش کی تھی وہ نورانی صاحب نے تیار کی تھی اور جب انہوں نے مفتی محمود صاحب کو