دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 201 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 201

201 published by Research Socirty of Paksitan p218) پھر انہوں نے یہ دعویٰ پیش کیا کہ کمیشن کے سامنے وکلاء نے جو بحث کی تھی اس کا ریکارڈ موجود نہیں ہے جس سے پتہ چل سکے کہ کیا یہ دلائل پیش کیے گئے تھے کہ گورداسپور کا ضلع پاکستان میں شامل ہونا چاہیے کہ نہیں۔یہ بھی خلاف واقعہ دعوی ہے کیونکہ جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ یہ ریکارڈ حکومت پاکستان کی تحویل میں تھا اور اب کئی مرتبہ شائع بھی ہو چکا ہے۔صرف مسئلہ یہ تھا کہ اس ریکارڈ سے ان الزامات کی مکمل تردید ہوتی تھی جو کہ میر نوراحمد صاحب یا مفتی محمود صاحب لگا رہے تھے۔تیسرا دعوی یہ پیش کیا گیا کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے مسلم لیگ کا کیس پیش کرنے کے علاوہ احمدیوں کا علیحدہ میمورنڈم بھی پیش کیا۔میر نور احمد صاحب لکھتے ہیں کہ بے شک جماعت احمدیہ کا موقف یہی تھا کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں لیکن اس طرح علیحدہ میمورنڈم پیش کرنے سے مسلمانوں کی عددی اکثریت کم ہوگئی۔یہ بھی بالکل خلاف واقعہ دعوئی ہے کیونکہ اب یہ میمورنڈم شائع ہو چکا ہے اور ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ جماعت احمدیہ کا میمورنڈم حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے نہیں بلکہ شیخ بشیر احمد صاحب نے پیش کیا تھا اور اس کا رروائی میں جماعت احمدیہ کی طرف سے بھی اور مسلم لیگ کی طرف سے بھی جماعت احمدیہ کو مسلمانوں کی ایک جماعت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ چند لمحے قبل تو مفتی محمود صاحب یہ دعوئی پیش کر رہے تھے کہ جماعت احمدیہ نے یہ مطالبہ پیش کیا تھا کہ قادیان کو ویٹیکن کا درجہ دیا جائے اور اب وہ خود ہی اپنی تردید کر کے یہ حوالہ پیش کر رہے تھے کہ جماعت احمد یہ قادیان کو پاکستان میں شامل کرنا چاہتی تھی۔اس کے علاوہ مفتی محمود صاحب نے جسٹس منیر صاحب کا ایک حوالہ پیش کیا کہ یہ بات ان کے لیے نا قابل فہم ہے کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے میمورنڈم کیوں پیش کیا گیا۔اگر جماعت احمدیہ کو مسلم لیگ کے موقف سے اتفاق نہ ہوتا تو یہ بات سمجھ آسکتی تھی لیکن اس میمورنڈم کی وجہ سے مسلمان جج صاحبان مخمصے میں پڑ گئے۔واضح رہے کہ جسٹس منیر صاحب مسلم لیگ کی طرف سے اس کمیشن کے رکن نامزد کیے گئے تھے۔پہلی بات یہ ہے کہ اس میمورنڈم کا مقصد کیا تھا؟ اب جبکہ باقی کا روائی کی