دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 175 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 175

175 بات ہے کہ اس وقت بیشتر عرب ممالک سلطنت عثمانیہ کے تحت تھے لیکن وہ سلطنت عثمانیہ سے علیحدہ ہونا چاہتے تھے۔اس لیے انہوں نے انگریزوں سے ساز باز کی اور ترکی کی سلطنت کے خلاف بغاوت کھڑی کر دی۔ان میں سے اکثر مفتی محمود صاحب کے فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔یہ الزام جماعت احمدیہ پر نہیں بلکہ مفتی صاحب اور ان کے ہمنو ا حضرات پر لگنا چاہیے۔سلطنت عثمانیہ کے خلاف یہ بغاوت کرنے والے کون تھے ؟ یہ زیادہ تر سنی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔اس پس منظر میں جماعت احمد یہ پر اس کا الزام لگا نا محض ایک بچگانہ حرکت تھی۔اس بارے میں چند معروف اور بنیادی اہمیت کے حقائق درج کیے جاتے ہیں۔1۔جون ۱۹۱۶ء میں شریف مکہ حسین ابن علی نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف عرب بغاوت کا آغاز کیا۔سب یہ جانتے ہیں کہ شریف مکہ سنی مسلک کے تھے اور اس سے پہلے شریف مکہ کو اس بغاوت پر آمادہ کرنے کے لیے ، مصر میں موجود برطانوی ہائی کمیشنر Sir Henry Mcmahon اور شریف مکہ میں طویل خط و کتابت ہوئی۔اس کے نتیجہ میں بغاوت شروع ہوئی اور بعد میں لارنس کی مدد سے یہ بغاوت پروان چڑھی۔یہ بات دلچسپ ہے کہ ۱۹۰۷ء میں ہنری میکموہن ہندوستان میں موجود تھے۔جب حضرت عبدالطیف شہید کو سنگسار کروانے کے کچھ سال بعد امیر حبیب اللہ ہندوستان آئے تو وہاں پر ہنری میکموہن نے ان کا استقبال کیا اور اس سفر میں ان کے ساتھ رہے اور ان دونوں میں دوستی ہوگئی۔میکموہن فری میسن تھے اور امیر حبیب اللہ کی درخواست پر وہی امیر حبیب اللہ کو فری میسن بنانے کا باعث بنے۔یہ حقیقت بہت سے تاریخی کتب کے علاوہ انٹرنیٹ پر فری میسن تنظیم کی بہت سی Sites پر بھی موجود ہے۔(The Kingdom by Robert Lacey, published by Hutchison London, 1981, p 119-121) (http://nationalheritagemuseum۔typepadcom/library_and_archives/۔2008/10/amir-habibullah۔html)