دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 174
174 اکسانے کے لیے پیش کر رہے تھے اور اس قابل قومی اسمبلی میں کسی کو عالمی منظر کے متعلق یہ بنیادی معلومات بھی حاصل نہیں تھیں۔یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ مفتی محمود صاحب نے یہ دعویٰ پیش کیا تھا کہ اگر قادیانیت صیہونیت کی آلہ کار نہیں ہے تو صرف ان پر اسرائیل کے دروازے کیوں کھلے ہیں۔یہ بھی بے بنیاد دعوی تھا۔اس وقت یعنی ۲۰۱۴ء میں اسرائیل کی پارلیمنٹ Knesset میں مسلمان ممبران میں سنی ممبران تو موجود ہیں لیکن ایک بھی احمدی ممبر موجود نہیں ہے۔Barakeh Muhammad نام کے ایک مسلمان ممبر اسرائیلی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر بھی رہ چکے ہیں۔ایک اور مسلمان Raleb Majadale کو ۲۰۰۷ء میں اسرائیل کا وزیر بھی مقرر کیا گیا تھا۔یہ صاحب بھی احمدی نہیں ہیں۔اس پس منظر کو دیکھا جائے تو یہ الزام مفتی محمود صاحب کو جماعت احمد یہ پر نہیں لگانا چاہیے تھا بلکہ اگر یہ فلسفہ درست ہے تو یہ حق جماعت احمدیہ کو حاصل تھا کہ وہ یہی اعتراض مفتی محمود صاحب اور ان کے ہمنو احضرات پر کرے۔سلطنت عثمانیہ کے خلاف سازش کا الزام اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ کے حوالے سے جماعت احمدیہ پر بے تکان الزامات لگانا شروع کیے۔مفتی محمود صاحب کے الزامات کا خلاصہ یہ تھا کہ احمدیوں نے ہی ترکوں اور عربوں کو آپس میں لڑایا تھا اور یہ بھی الزام لگایا کہ جماعت احمدیہ نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہم مذہباً ترکی کے بادشاہ کو خلیفہ نہیں سمجھتے۔جہاں تک ترکی کے بادشاہ کو خلیفہ نہ سمجھنے کا تعلق ہے تو یہ بات نا قابل فہم ہے کہ اس کا الزام صرف جماعت احمدیہ پر کیوں رکھا جا رہا تھا۔یہ درست ہے کہ جماعت احمدیہ ترکی کے بادشاہ کو خلیفہ راشد نہیں سمجھتی اور بالکل نہیں سمجھتی لیکن باقی فرقے کیا ترکی کے بادشاہوں کو خلفاء راشدین سمجھتے ہیں؟ ہر گز نہیں سمجھتے۔شیعہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے ترکی کے بادشاہ کو خلیفہ نہیں سمجھتے۔اہل حدیث بھی ترکی کے بادشاہ کو خلیفہ نہیں سمجھتے۔جہاں تک پہلے الزام کا تعلق ہے تو یہ اتنا مضحکہ خیز ہے کہ اس کی لمبی چوڑی تردید کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔سیدھی سادھی