دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 176 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 176

176 2 اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ اس وقت نجد میں موجود حکمرانوں نے برطانیہ کا ساتھ دینا کس طرح شروع کیا۔۱۹۱۵ء میں پہلی مرتبہ نجد کے سعودی حکمران امیر عبد العزیز اور برطانوی عہدیدار Percy Cox میں ملاقات ہوئی اور پھر برطانیہ اور سعودی خاندان کے درمیان معاہدہ ہو گیا۔برطانیہ نے اسلحہ اور بھاری رقموں کے ساتھ سعودی خاندان کی مدد کی۔اس وقت بصری کے قریب برطانوی افواج اور سلطنت عثمانیہ میں جنگ ہو رہی تھی۔رشید خاندان کی فوج برطانوی فوج پر حملے کر کے اس علاقہ میں انہیں ہراساں کر رہی تھی۔سعودی خاندان سے پہلی مدد یہ لی گئی کہ ان کو کہا گیا کہ وہ رشید خاندان پر حملہ کر دیں چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور اس سے برطانوی فوج کو بہت تقویت ملی اور یہ سب جانتے ہیں کہ ماضی میں سعودی خاندان جماعت احمدیہ کے مخالفین کی سر پرستی کرتا رہا ہے۔(The Kingdom by Robert Lacey, published by Hutchison London, 1981,p 124) 3۔اب بہت سی دستاویزات جو کہ پہلے خفیہ تھیں منظر عام پر آچکی ہیں اور شائع بھی ہو چکی ہیں۔چنانچہ ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران ہندوستان کے بہت سے مسلمانوں کی ہمدردیاں ترک سلطنت عثمانیہ کے ساتھ تھیں اور حج کے دوران ان کے عمائدین اور ترک اعلیٰ عہدیداروں کی اہم ملاقاتیں بھی ہوتی تھیں۔برطانوی حکومت کو ایسے قابل اعتماد مخبر کی ضرورت تھی جو کہ ان کے بارے میں برطانوی حکومت کو باخبر رکھے۔اب جو دستاویزات سامنے آئی ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مخبری دارالعلوم دیو بند کے مہتم اور ان کے بانی کے فرزند مولوی محمد احمد صاحب کیا کرتے تھے اور اس راہ میں دیو بند کے اساتذہ کو گرفتار کرانے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔چنانچہ اس وقت اعلیٰ برطانوی عہدیداروں کی خط و کتابت میں اس بات کا تفصیلی ذکر موجود ہے کہ مہتمم دارالعلوم دیو بند کس طرح ان کے لیے مخبری کر رہے ہیں۔حکومت نے انہیں شمس العلماء کا خطاب بھی دیا تھا۔اس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔(The Indian Muslims, A Documentory Record 1900-1947, compiled by Shan