دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 115
115 ملتے جلتے عقائد کے مسلمانوں کے لیے بنائی گئی تھی اور اس وقت احمدی فرقہ کا وجود ہی نہیں تھا جیسا کہ درخواست میں لکھا گیا تھا: The Mosque has been dedicated to the Hanafi sect and to such other sects of the Mahomoden religion I which had the same tenets but not to such sects as Ahmadis which was not even in existence at that time۔ترجمہ یہ مسجد حفی فرقہ کے لوگوں اور ان مسلمان فرقوں کے لوگوں کے لیے بنائی گئی تھی جو کہ ان جیسے عقائد رکھتے ہیں لیکن یہ جماعت احمد یہ جیسے فرقہ کے لوگوں کے لیے تعمیر نہیں کی گئی تھی کیونکہ اس فرقہ کا مسجد کی تعمیر کے وقت کوئی وجود ہی نہیں تھا۔اس بنیاد پر مدعا علیہ کا موقف تھا کہ اس مسجد میں احمدیوں کو اپنے امام کے پیچھے علیحدہ جماعت کرنے سے روکا جائے۔صاف ظاہر ہے کہ مفتی محمود صاحب نے مدعا علیہ کا موقف بیان کرتے ہوئے غلط بیانی کی تھی۔نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے بھی غلط بیانی سے کام لیا تھا۔عدالت کے فیصلے کا احمدیوں کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔عدالت کا فیصلہ یہ تھا کہ یہ حنفیوں کی مسجد ہے اور شروع ہی سے حنفی مسلک کے لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز ادا کرتے رہے ہیں۔اگر چہ اس مسجد کے امام اور اس کے متولی بورڈ کے صدراحمدی ہو گئے تھے لیکن پھر بھی یہ مسجد حنفی فرقہ ہی کی ہے اور اس لیے احمدی اپنے امام کے پیچھے یہاں پر نماز نہیں ادا کر سکتے۔عدالتی فیصلہ کا یہ حصہ اس بات کو واضح کر دیتا ہے۔عدالتی فیصلہ میں لکھا ہے: The followers of Ahmad are admittedly Mahommadens within the short and decisive creed which sums up the faith of Islam احمد کے پیروکار اسلامی عقیدہ کی مختصر اور فیصلہ کن تعریف کی رو سے مسلمہ طور پر مسلمان ہیں۔مندرجہ بالا حوالے سے ثابت ہو جاتا ہے کہ عدالتی فیصلہ کے بارے میں بھی مفتی محمود صاحب