دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 116 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 116

116 نے جو دعویٰ پیش کیا تھا وہ جھوٹ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔یہ عدالتی فیصلہ Decisions 1921 of the Supreme Court of Mauritius میں بھی شائع ہو چکا ہے جو کہ Google Books اور Internet Archives پر بھی موجود ہے۔ہر کوئی دیکھ کر اپنی تسلی کرسکتا ہے۔غالباً سوال و جواب کے دوران جس ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے ازالہ کے لیے مفتی محمود صاحب نے اب یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ یہ ثابت کریں کہ پاکستان کی عدالتیں تو پہلے ہی احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے چکی ہیں۔لیکن اس کے لیے بیچارے مؤثر دلائل کہاں سے لاتے ؟ اس کے لیے انہوں نے ایک بار پھر اخفائے حق کا راستہ اختیار کیا۔انہوں نے ریاست بہاولپور کی عدالت کے ایک فیصلہ، راولپنڈی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ حج کے فیصلہ اور جیمس آباد کے ایک فیملی کورٹ کے فیصلہ جات کے حوالے پیش کیے لیکن حقیقت یہ تھی کہ یہ فیصلہ جات پاکستان کی اسمبلی میں کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ سیشن عدالت کے فیصلوں کی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی۔دوسری وجہ یہ ہے کہ خود پاکستان کی ایک ہائی کورٹ ان فیصلوں پر خط تنسیخ پھیر چکی تھی۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ رسالہ چٹان کے ایڈیٹر اور جماعت احمدیہ کے مشہور مخالف شورش کا شمیری صاحب نے ۱۹۶۸ء میں ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا۔اس مقدمہ کی وجہ یہ تھی کہ حکومت مغربی پاکستان نے انہیں نوٹس بھجوایا تھا کہ ان کا رسالہ ایسا مواد شائع کر رہا ہے جس سے مسلمانوں کے فرقوں میں باہمی منافرت پھیل رہی ہے اور اس رسالہ کا ڈیکلریشن منسوخ کر دیا گیا۔اس وقت یہ رسالہ حسب معمول احمدیوں کے خلاف پراپیگینڈا کرنے میں مشغول تھا۔اس مقدمہ میں مغربی پاکستان کی حکومت مدعا علیہ تھی۔مدعی نے اپنی درخواست میں دیگر امور کے علاوہ یہ موقف بھی پیش کیا کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں اور اس کو ثابت کرنے کے لیے انہوں نے یہ فیصلے ہائی کورٹ کے سامنے رکھے۔ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: We are obliged to consider this aspect of the matter, because the petitioners learned counsel in the course of