دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 98
98 وہ پڑھ رہے تھے اور اس کے مطلب سے آشنا ہونا تو ایک طرف رہا وہ عبارت کے سیاق و سباق سے بھی واقف نہیں تھے کیونکہ اس عبارت سے اگلا فقرہ یہ تھا پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں“ (روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۴۲) خدا جانے کہ ٹیچنگ کا اندازہ مفتی محمود صاحب نے کس خیال سے لگایا تھا۔تعبیر الرؤیا کی رو سے تو یہاں پر کسی فرشتہ کا یہ نام ہونے یا نہ ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔اور کیا مفتی محمود صاحب کے علم میں خدا تعالیٰ کے تمام بے شمار فرشتوں کے نام تھے جو انہیں ایک اسی نام پر اتنی حیرت ہو رہی تھی۔ویسے بھی معلوم ہوتا ہے کہ خوابوں کی تعبیر کرنا ان استہزاء کرنے والوں کے بس کا روگ نہیں تھا۔حضرت امام جعفر صادق نے ارشاد فرمایا ہے کہ بے دین لوگوں سے ، عورتوں سے، جاہلوں سے اور دشمنوں سے خواب کی تعبیر معلوم نہیں کرنی چاہیے۔(خواب نامہ کبیر اردو ترجمه کامل التعبیر تالیف علامہ ابن سیرین متر جمہ مولانا ابوالقاسم دلاوری ناشر مصطفے برادر زصفحه ۳۶، ۳۷) اس کے بعد انہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ کشف پیش کیا جو کہ آپ نے بیماری کی حالت میں دیکھا تھا۔اس میں آپ کو ایک شیشی دکھائی گئی تھی جس پر لکھا تھا خاکسار” پیپر منٹ“۔جیسا کہ پہلے عرض کی گئی ہے کہ اب مفتی صاحب صرف الہامات اور کشوف کا متن پڑھ رہے تھے۔عجز بیان کی انتہا ہے کہ وہ یہ بھی بیان نہ کر سکے کہ ان کے ذہن میں اعتراض آیا کیا تھا ؟ شاید وہ جانتے بھی نہیں تھے کہ انہیں کیا اعتراض کرنا تھا۔شاید وہ یہ جانتے نہیں تھے کہ پیپرمنٹ ایک دوائی کا نام ہے۔جو کہ اس دور میں استعمال ہوتی تھی اور آج بھی استعمال ہوتی ہے اور اس بیماری میں حالت کشف میں یہ دوائی دکھائی گئی تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بتایا گیا تھا کہ اس دوائی کا استعمال مفید ہوگا۔بیچارے مفتی صاحب نہ جانے پیپرمنٹ کو کیا سمجھتے تھے۔(Healing Digestive Disorders: Natural Treatments for Gastrointestinal Conditions by Andrew Gaeddert P 64) اس کے بعد انہوں نے اپنی گونگی منطق کو جاری رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام کو پڑھا: