دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 99
99 I shall give you a large party of Islam مفتی صاحب یا ان کے ساتھی تو یہ بیان کرنے سے قاصر رہے کہ آخر انہیں اس الہام پر کیا اعتراض تھا۔مگر ہم اس الہام کے بارے ضرور کچھ عرض کریں گے۔مفتی محمود صاحب نے خود حوالہ پڑھا کہ یہ الہام براہین احمدیہ کا ہے۔یہ الہام براہین احمدیہ جلد چہارم کا ہے اور یہ جلد ۱۸۸۴ء میں شائع ہوئی تھی۔کیا اس وقت آپ کے ساتھ کوئی جماعت تھی؟ ہرگز نہیں تھی۔کیا اس وقت آپ کی معاونت کرنے کے لئے قادیان میں تین چار پڑھے لکھے آدمی موجود تھے؟ نہیں تھے۔اس وقت آپ کے پاس اتنا سرمایہ بھی نہیں تھا کہ ایک کتاب شائع کروا سکتے۔اس وقت ابھی کسی ایک شخص سے بھی بیعت نہیں لی گئی تھی۔شاید اس وقت قادیان میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے دو تین لی آدمی ہی موجود ہوتے تھے۔اور قادیان بھی ایک محکوم ملک کا ایک گمنام سا قصبہ تھا جہاں یکوں پر بیٹھ کر جانا پڑتا تھا اور تو اور آپ کا خاندان بھی آپ کا ساتھ دینے کو آمادہ نہیں تھا۔ان حالات کو ذہن میں رکھ کر ذرا سوچیں کہ کون یہ پیشگوئی کر سکتا تھا کہ اسے ایک وسیع جماعت عطا کی جائے گی ،سوائے اس کے کہ اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت دی گئی ہو۔یہ پیشگوئی ہندوستان اور افغانستان میں بھی پوری ہوئی۔یہ پیشگوئی انڈونیشیا اور ملیشیا میں بھی پوری ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یورپ اور برطانیہ میں بھی جماعت عطا کی گئی اور امریکہ میں بھی جماعت عطا کی گئی۔مشرقی افریقہ میں بھی آپ کے خدام پیدا ہوئے اور مغربی افریقہ میں بھی آپ کے خدام پیدا ہوئے۔افریقہ کے جنوب میں آپ کے جانثار موجود ہیں اور آج آسٹریلیا میں بھی آپ کی جماعت موجود ہے۔اس پیشگوئی کی عظمت کو دیکھ کر تو ان استہزاء کرنے والوں کی بے عقلی پر رونا آتا ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ نشانات آنحضرت ﷺ کے بابرکت وجود سے ظاہر ہوئے ہیں لیکن آپ کے بعد کی صدیوں کی تاریخ کھنگال جا ئیں۔کوئی ایسی مثال ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔جب کسی نے اتنی گمنامی کی حالت میں ایسی پیشگوئی کی ہو اور اسے اتنی وسیع جماعت عطا کی گئی ہو۔کوئی ایک مثال تو پیش کریں۔لیکن یقین رکھیں کہ صرف لا جواب ہو کر استہزاء کرنے کو ہی کافی سمجھا جائے گا۔اس کی کوئی مثال نہیں پیش کر سکیں گے۔