دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 97
97 ( متعد داراکین نے ٹیچی ٹیچی“ کا مطلب پوچھا ) مولوی مفتی محمود : ” ٹیچی شاید ٹیچنگ سے ہے یعنی پڑھانے والا۔ڈاکٹر الیس محمود عباس بخاری : مولانا صاحب ! ” ٹیچی کا مطلب ہے سچ ٹائم تے آن والا ( یعنی عین وقت پر آنے والا )۔اس کی تفسیر انہوں نے کی ہے۔بیچ ٹائم پر آنے والا۔مولوی مفتی محمود : مرزا جی کے فرشتہ نے یا پہلے جھوٹ بولا یا پھر جس نبی کا فرشتہ جھوٹ بولتا ہے وہ نبی کیسے ہوسکتا ہے؟ ( کارروائی صفحہ ۱۹۵۸) تمسخر کی یہ کوشش اگر اس خفت کے ازالہ کے لیے کی جارہی تھی جو کہ سوال وجواب کے دوران قومی اسمبلی کے قابل ممبران کو اُٹھانی پڑی تھی تو اس سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو رہا تھا سوائے اس کے کہ یہ ظاہر ہو جائے کہ مقرر صاحب اور سامعین علم الرؤیا سے مکمل طور پر نا بلد تھے۔اور اس کم علمی کے ساتھ اگر خشک مولویت کی رگ بھی پھڑک اُٹھے تو ایسی بچگانہ حرکات سامنے آتی ہیں حالانکہ سوال و جواب کے دوران بھی یہ سمجھایا گیا تھا کہ اسلامی علوم میں ایک علم تعبیر الرؤیا کا علم بھی ہے اور خوابوں کی تعبیر اس علم کے مطابق کی جاتی ہے۔مناسب ہوتا ہے کہ اگر مفتی محمود صاحب اس تقریر سے قبل علم الرؤیا کی کوئی کتاب ملاحظہ فرما لیتے تو اس غلطی سے بچ سکتے تھے۔اصل میں یہ دیکھنا چاہیے کہ اگر کوئی خواب میں دیکھے کہ فرشتہ اسے کچھ دے رہا ہے تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ہم ایک حوالہ درج کر دیتے ہیں جس سے بات واضح ہو جاتی ہے۔حضرت جعفر صادق نے فرمایا۔اور اگر دیکھے کہ فرشتہ اس کو عطا دیتا ہے تو وہ شخص عطا اور بزرگی پائے گا۔‘“ ( خواب نامہ کبیر اردو تر جمه کامل التعبیر تالیف علامہ ابن سیرین مترجمہ مولانا ابوالقاسم دلاوری ناشر مصطفے برا در صفحه ۶۸) اور نام ٹیچی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مدد بر وقت پہنچے گی۔مفتی محمود صاحب جو قیاس بیان کر رہے تھے اس سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں کہیں سے اعتراضات کا پلندہ پکڑا دیا گیا تھا جسے