مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 24 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 24

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 24 رہتی۔مشک کی خوشبو آپ کے پسینہ میں معلوم ہوتی تھی ، جب نہا کر نکلتے تو گیلا گیلا بدن ململ کے کرتے میں سے صاف شفاف نظر آتا ،نرم نرم بالوں میں نمی سی اور چند قطرے پانی جو بدن خشک کرنے کے بعد بھی سر میں باقی رہتے بہت ہی پیارے لگتے تھے۔آپ علیہ السلام کا قد بالکل راست تھا، ذرا بھی کمزوری اور جھکاؤ نہ آیا تھا نہ پیشانی ، نہ چہرے پر کوئی جھری تھی۔صرف آنکھوں کے کوئیوں کے پاس ڈرا ڈرائل سے تھے جو جوانوں کے بھی پڑ جاتے ہیں ، غرض اتنی محنت بے حد کام اور اس پر عارضہ دورانِ سر اور کثرت پیشاب کا جو عارضہ تھا۔ان سب کے باوجود کوئی اثر آپ کے چہرہ مبارک پر ہرگز ہرگز نہ تھا۔(14) صلى الله ہمیں تو بغیر سکھائے بتائے جہاں سے ہوش کا زمانہ یاد ہے یقین تھا کہ آپ خدا تعالی کے فرستادہ نبی اور خاص بندے ہیں اور آپ خدا تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کے عاشق ہیں اور بہت ہی زیادہ آپ کا دل اپنے رب کے عشق سے اور اپنے آقا نبی کریم اللہ سے عشق سے بھرا ہوا ہے۔میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نبی کریم میلے کا ذکر کر رہے ہوں اور آپ علیہ السلام کی آنکھیں اشک آلود نہ ہو گئی ہوں ، بات کرتے جاتے اور انگلی سے گوشہ ہائے چشم سے ٹپکتے آنسو پو نچھتے جاتے تھے۔