مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 23
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 23 زمانہ تھا ، اکثر چکروں کا دورہ ہوتا۔مگر آپ کی انتھک محنت کی مثال نہیں ملتی ، باہر جانا ہے، نمازوں میں جانا ہے ،مگر اس وقعہ میں آپ برابر تحریر کا کام کرتے رہتے اتنی مصروفیت اتنے کام۔۔۔پھر بھی اس کے مقرر کردہ انسانی حقوق و فرائض ہمیشہ احسن طریق سے بشاشت سے ادا فرمائے۔حضرت اماں جان کا انتہائی خیال ہے، ہر طرح بے انتہا قدر تھی حضرت اماں جان کی آپ کے دل میں بچوں پر شفقت ان کی ناز برداری اپنے مہمانوں اپنے پروانوں کا جو گھر بار چھوڑ کر اکثر دنیا کے سارے رشتے توڑ کر اس شمع فروزاں کے گرد جمع تھے۔ہر ضرورت کا ہر وقت خیال رکھنا۔سوچیں! تو صاف نظر آتا ہے کہ خدا تعالی کی خاص عطا کردہ روح کام کر رہی تھی سبھی کو وقت دیتے تھے۔کوئی دوا مانگنے آرہا ہے۔آپ کام کرتے کرتے دوا دے رہے ہیں۔میٹی کہ ہندو عورتیں بھی اندر آ جاتیں، کوئی دوا مانگتی۔کوئی اپنے' کا کے کے سر پر ہاتھ پھیرنے کو کہتی کوئی کچھ ، بہت کچھ یاد ہے۔(13) آپ ظاہر و باطن ایک آئینہ شکاف کی مانند تھے جس میں سورج کی چمک سے نور نظر آتا ہوں، مگر آنکھ کے اندھوں کے لئے سو سو حجاب حائل ہوتے ہیں ، آپ کا جسم بھی مصفی تھا ، گرمی اور پسینوں کی مدت میں بھی کبھی بوئے نا خوش آپ میں سے نہیں آتی تھی ، ہمیشہ ایک ملکی ہلکی مہک آتی