مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 56
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 66 56 صاحب (حضرت مرزا شریف احمد صاحب) سمجھا۔یا اُن کے بھی دیکھنے کی خواہش ہوگی اور خیال کیا کہ وہ بھی باہر ہوں گے اور آگئے ہوں گے ، وہ لاہور تھے اور علیل تھے ، اُس وقت تک نہ پہنچ سکے تھے۔آپ لوگ اس بے نظیر مادری محبت کا اندازہ کر لیں کہ گویا آخری دم ہیں اور شریف کے سر در داور اُن کی چائے کا فکر ہے۔(33) بچوں کی تربیت کے متعلق آپ فرمایا کرتی تھیں کہ بڑے بچے کی تربیت پر بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔اگر وہ ٹھیک راہ پر چلے گا تو آئندہ زیادہ محنت کی ضرورت نہیں ، چھوٹے خود ہی بڑے کے نقشِ قدم پر چلنے لگتے ہیں۔بچوں پر اعتماد کر کے تربیت کرنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی طریق تھا اور حضرت اماں جان کا بھی ، مثلاً اگر کوئی بات ہمارے بچپن میں کسی کی ہوتی تو آپ بڑے وثوق سے کہتیں ” میرے بچے جھوٹ نہیں بولتے اور یہ بات ہمارے دلوں میں اتنی گڑ گئی تھی کہ مجھے بچپن کا اپنا تاثر یاد ہے کہ جھوٹ تو خیر ہم نے بولنا ہی نہ ہوا یہ بات ہمارے کرنے کی ہے ہی نہیں۔نیز حضرت اماں جان فرمایا کرتی تھیں بچہ کو یونہی ہر وقت نہ کہو سُنو مگر جب کہو تو ضرور وہ بات کروا کر چھوڑو تا کہ فرمانبرداری کی عادت پڑے۔لیکن ہر وقت تنگ نہ کرو۔(34)