مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 55 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 55

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 55 جھانا “ کہہ کر ہمارے پنجاب میں فروخت کرتے اور بچے شوق سے کھاتے ہیں کہیں بچپن میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو بھی پسند ہوگا۔میں نے دیکھا کہ بچوں کے پاس دیکھ کر حضرت اماں جان نے فوراً منگوایا کہ میاں کو پسند ہے اُن کو دے کر آؤ۔اسی طرح ہر وقت ہر کھانے پر خیال رہتا تھا کہ یہ ”میرے بشری حضرت منجھلے بھائی صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب) کی پسند ہے کوئی دے کر آئے اُن کو ابھی اور اہتمام سے بھی ان کی شوق کی چیز تیار کروا کر بھجواتی رہتی تھیں۔(32) ذرا خاموش سا دیکھتیں تو پریشان ہو جاتی تھیں۔اپریل 1952 ء میں وفات سے کوئی دو یا تین روز ہی پہلے کی بات ہے ضعف بے حد طاری ہو چکا تھا۔ہم لوگ ( عورتیں ) خدمت میں اندر حاضر رہتے اور حضرت منجھلے بھائی صاحب اور دیگر مرد وافراد خاندان بر آمدے میں ہوتے ، حضرت منجھلے بھائی صاحب کو بیحد تڑپ تھی کہ کسی وقت حضرت اماں جان آنکھ کھولیں تو میں مل لوں۔ایک دفعہ میں نے ہوشیار دیکھ کر اُن کو جلدی سے اندر یکا لیا، ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گئے۔طبیعت پوچھی حسب معمول " اچھی ہوں" کہا مگر جب وہ اٹھ کر چلے گئے تو مجھے آہستہ سے کہنے لگیں کہ " شریف کو چائے پلا دو۔اُس کے سر میں درد نہ ہو جائے۔یا تو اس ضعف کی حالت میں حضرت منجھلے بھائی صاحب کو چھوٹے بھائی