مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 57 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 57

حضرت نواب مبار که بیگم صاحبہ 57 میرے بڑے بھائی صاحب (حضرت خلیفہ السیح الثانی) ’ پھر باپ ہو جہان میں پیدا تو بھائی ہو“ خدا تعالیٰ کے فضل و احسان سے میرے بھائیوں کا ظاہر تو تھا ہی بہترین مگر باطن بھی پاکیزہ رہا۔میری نظر نے تمام تعلقات، رشتہ، اور محبت کو الگ رکھتے ہوئے جب بھی غور کیا۔ظاہر سے بھی بہتر ان کے دلوں کو پایا ، کوئی نفاق نہیں ، کوئی ریاء نہیں ، کوئی مکاری نہیں ، نہ کسی سے بغض وحسد، نہ دنیا کے معاملات کے لئے غصہ اور انتقام کا جذبہ، ہمیشہ صاف شفاف دل والے رہے۔(35) بڑے بھائی کے مشاغل مطالعے پر زور تھا، مگر کوئی خاص وقت پڑھائی کا باہر صرف بھی نہیں کرتے تھے اور اندر بھی پڑھتے ضرور تھے مگر اتنا نہیں کہ دن رات جیسے لڑکے سرکھپاتے ہیں، ان کو تو اللہ تعالیٰ نے خود ہی اپنے فضل وکرم سے پڑھا دیا۔اکثر آشوب چشم بھی ہو جاتا، کمزوری سے حرارت بھی ہو جاتی ، قومی بدن نہ تھا ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پڑھائی کے لئے کبھی نہیں کہا کہ محنت کرو وغیرہ، مگر ابتداء سے اپنی دینی کتب قرآن مجید حدیث اور دیگر مذاہب کی کتابیں اور اسکے علاوہ کہانی قضے بھی پڑھ لیتے تھے، چھوٹی چھوٹی