مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 47 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 47

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 47 لڑکیاں تو چار دن کی مہمان ہیں ، یہ کیا یاد کرے گی ، یہ جو کہتی وہی کرو۔غرض یہ محبت بھی دراصل حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی محبت تھی جو آپ کے دل میں موجزن تھی۔اس کے بعد میری زندگی میں ایک دوسرا مرحلہ آیا یعنی میرے میاں مرحوم کی وفات۔ان کے بعد ایک بار اور میں نے اس چشمہ محبت کو پورے زور سے پھوٹتے دیکھا۔جیسے بارش برستے برستے یکدم ایک جھڑا کے سے گرنے لگتی ہے۔اس وقت وہی با برکت ہستی تھی ، وہی رحمت و شفقت کا مجسمہ تھا، جو ابلا ہر اس دنیا میں خدا تعالی رفیق اعلی و رحیم و کریم ذات کے بعد میرا رفیق ثابت ہوا۔جس کے پیار نے میرے زخم دل پر مرہم رکھا۔جس نے مجھے بھلا دیا تھا کہ میں ایک بیوہ ہوں۔بلکہ مجھے معلوم ہوتا تھا کہ میں کہیں جا کر پھر آغوش مادر میں واپس آگئی ہوں۔اب کوئی ایسا نہیں جو میرے احساس کو سمجھے میرے دکھ کو اپنے دل پر بیتا ہوا محسوس کرے۔(27) مجھے آپ کا کشتی کرنا کبھی یاد نہیں ، پھر بھی آپ کا ایک خاص رعب تھا۔اور ہم بہ نسبت آپ کے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام سے دنیا کے عام قاعدہ کے خلاف بہت زیادہ بے تکلف تھے۔اور مجھے یاد ہے کہ حضور اقدس علیہ السلام کے حضرت والدہ صاحبہ کی بے حد قد ر و محبت کرنے کی