مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 48
حضرت نواب مبار که بیگم صاحبہ 48 وجہ سے آپ کی قدر میرے دل میں بھی بڑھا کرتی تھی۔آپ باوجود اس کے کہ انتہائی خاطر داری اور ناز برداری آپ کی حضرت اقدس علیہ السلام کو ملحوظ رہتی کبھی حضور علیہ اسلام کے مرتبہ کو نہ بھولتی تھیں۔بے تکلفی میں بھی آپ علیہ السلام پر پختہ ایمان اور اس وجود مبارک کی پہچان آپ کے ہر انداز و کلام سے مترشح تھی جو مجھے آج تک خوب یاد ہے۔آخر میں بار بار وفات کے متعلق الہامات ہوئے ، تو ان دنوں بہت ممکن رہتیں۔ایک بار مجھے یاد ہے کہ حضرت والدہ صاحبہ نے حضرت اقدس علیہ السلام سے کہا۔(ایک دن تنہائی میں الگ نماز پڑھنے سے پہلے نیت باندھنے سے پیشتر کہ " میں ہمیشہ دعا کرتی ہوں کہ خدا مجھے آپ کا غم نہ دکھائے اور مجھے پہلے اٹھالے۔‘ یہ سن کر حضرت علیہ السلام نے فرمایا :۔اور میں ہمیشہ یہ دعا کرتا ہوں کہ تم میرے بعد زندہ رہو اور میں تم کو سلامت چھوڑ جاؤں۔‘(28) اِن الفاظ پر غور کریں اور اُس محبت کا اندازہ کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ سے فرماتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد ایک بہت بڑی تبدیلی آپ میں واقع ہوئی۔پھر میں نے آپ کو پر سکون، مطمئن، اور بالکل خاموش نہیں دیکھا۔ایک بے قراری اور گھبراہٹ کی آپ کے مزاج میں باوجود انتہائی صبر اور ہم لوگوں کی