مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 36
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ سخت ضعف بھوک سے معلوم ہوا۔36 حضرت اقدس علیہ السلام جب نماز سے فارغ ہو کر باہر آئے تو حضرت اماں جان نے کہا ” مجھے تو بہت سخت بھوک لگی ہے اتنی کہ آدمی مٹی بھی کھالے، کھانا ابھی تک نہیں آیا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت بڑے بھائی صاحب خلیفہ امسیح الثانی سے کہا کہ ” میاں محمود تم جا کر کسی دکان سے جو ملے لے آؤ تمہاری والدہ کو بہت بھوک لگی ہے۔وہ گئے تھے اور کچھ لائے تھے ، ساتھ ہی کھانا آ گیا تھا۔اندر بھی سب نے کچھ نہ کچھ کھایا اور سب ساتھ والوں کو با ہر تقسیم کیا گیا۔لاہور پہنچے ، حضرت خلیفة المسیح الاوّل مع اہل وعیال همراه تھے اور پیر منظور محمد صاحب بھی تھے۔اسی مکان کے ملحقہ حصوں میں ان سب کو ٹھہرایا گیا تھا۔نیچے ایک بڑے کمرے میں جماعت ہوتی ، ملاقاتیں ہوتی تھیں، ہر وقت کی مصروفیت تھی۔آپ شام کو ضرور تھوڑی دیر کے لئے لینڈ روور میں سیر کو تشریف لے جاتے۔(22) ایک روز حضرت اماں جان نیچے خواجہ صاحب کے صحن میں تھیں، میں بھی تھی ، حضرت اماں جان نے کسی کپڑے والے کو بلوایا تھا اور میرے جیز کے لئے کچھ کپڑا خرید رہی تھیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام میرے نزدیک آئے اور کہا ”تمہاری اماں تمہارے لئے ریشم وغیرہ لے