مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 35
حضرت نواب مبار که بیگم صاحبہ 35 ہیں آپ کو بلا رہے ہیں آپ آجائیں۔میں نے جھلک مجلس کی گول کمرے میں دیکھی ، مگر خاص چہرہ مبارک کو پہچانا نہیں ، او پر جا کر میں نے اس دروازے سے جو اُمم ناصر کے صحن میں حضرت اماں جان کے کمرے کی جانب کھلتا تھا جا کر آپ کو پیغام دیا کہ حضرت رسول کریم میں ہے اور صحابہ تشریف لائے ہیں آپ کو بلوایا ہے ، آپ علیہ السلام تیز تیز قلم سے کچھ مضمون لکھ رہے تھے نظر اٹھائی اور کہا جاؤ کہہ دو کہ بس یہ مضمون ختم ہوا اور میں آیا۔لاہور میں جس شب آپ علیہ السلا علیل ہوئے اور صبح وصال ہوا شام کو قریب مغرب اسی طرح آپ علیہ السلام بستر پر بیٹھے ہوئے بہت تیزی سے جلد جلد لکھ رہے تھے۔چہرہ مبارک سرخ تھا۔قلم رواں تھا میں نے آپ علیہ السلام کا چہرہ اور اسی طرح بستر پر بیٹھے لکھتے دیکھا تو مجھے وہ خواب یاد آیا اور میں نے سوچا یہ تو وہی انداز لکھنے کا اور وہی سب کچھ ہے جو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔میں سامنے آپ علیہ السلام کے ایک تخت پوش بچھا تھا اس پر بیٹھی تھی۔ایسا کچھ دل پر اثر ہوا کہ میں گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔(21) جب لاہور کا سفر قریب ہوا تو صدقہ وغیرہ بھی دیا گیا تھا۔مجھے یاد ہے ہم رات کو بٹالہ مظہرے تھے ایک مکان میں صبح چلنا تھا۔کھانا جماعت یا کسی ایک فرد کی جانب سے آنا تھا، بہت دیر ہو گئی۔حضرت اماں جان کو