مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 97 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 97

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 97 اس پر کشتی لا کر رکھنا یاد آتا ہے اور اپنی حیثیت پر نظر جاتی ہے تو آنسو بہہ نکلتے ہیں، بڑے ہو کر taste بدل جاتے ہیں مگر اس یاد میں اب تک میں بہت چاہت سے ملے ہوئے تو س کبھی کبھی ضرور کھاتی ہوں۔“ اسی طرح حضرت اماں جان سے بے حد محبت بھی ہر وقت کے ذکر سے ظاہر ہوتی تھی کبھی نصیحت کرتے ہوئے مثال دے دی، کبھی اپنا کوئی واقعہ سنا دیا ، ایک دفعہ گھر کی کسی لڑکی نے اپنے بیٹے کو مٹی میں کھیلنے سے روکا تو فرمانے لگیں کھیلنے دو! حضرت اماں جان فرمایا کرتی تھیں۔پچھکےگھٹا ہووے کٹا‘، ایک بار اپنی نواسی کو گھریلوٹوٹکے بتاتے ہوئے فرمایا۔گھر کا بجٹ نہ بنایا کرو، یعنی خرچ کی جو رقم ہے اسے ہر وقت گنا نہ کرو ،حضرت اماں جان فرمایا کرتی تھیں کہ ” پیسے گنے سے برکت نہیں پڑتی ، وہ خدا تو ہے 66 حساب دینے والا ہے، ہم بجٹ بنا کر اس کو محدود کیوں کرتی ہو۔“ اپنے بھائیوں سے بے حد محبت تھی، اتنی زیادہ کہ شاید ہی کسی بہن نے اپنے بھائی سے کی ہو، جب ایک ایک کر کے تینوں بھائی اللہ کو پیارے ہو گئے تو آپ بہت ہی افسردہ رہنے لگیں ، اپنی اس کیفیت کے بارے میں آپ لکھتی ہیں:۔ایک بہت پرانی دوست جو قریبی عزیز ، میرے میاں کی بھتیجی